وکلاء، سیاسی جماعتوں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں وکلاء نے کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو کراچی ایئر پورٹ پرمحصور رکھنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور پیر کو کسی بھی مقدمہ کی سماعت نہ ہوسکی۔ وکلاء نےمال روڈ پر کراچی میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا جس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ ہائی کورٹ کے سابق ججوں نے بھی شرکت کی۔ وکلاء نے مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھی جس کے بعد سینکڑوں مظاہرین نےگورنر ہاؤس تک مارچ کیا۔ انہوں نےگورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا بھی دیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ ہلاک شدگان کی نماز جنازہ لاہور بار کے نائب صدر میاں عصمت اللہ نے پڑھائی جبکہ ایم ایم اے کے رہنما لیاقت بلوچ نے دعا کرائی۔
وکلاء کا جلوس ایوان عدل سے روانہ ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا جلوس بھی اس میں شامل ہوگیا۔اس موقع پر سیاسی جماعتوں اور مختلف سماجی تنظیموں کے کارکن بھی اپنی جماعتوں کے جھنڈوں لیے مرکزی جلوس میں شامل ہو گئے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران وکلاء کا یہ سب سے بڑا جلوس تھا اور مال روڈ پر حد نظر پر وکیل ہی وکیل تھے اورگرمی میں شدت کے باوجود وکلا کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جلوس میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، جے یو پی (نورانی گروپ)، خاکسار تحریک، لیبر پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی شرکت کی۔جلوس میں طلبا اور تاجروں نےشرکت کی۔ جلوس میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر کے علاوہ ارکان اسمبلی خواجہ سعد رفیق، رانا مشہود احمد خان، لیاقت بلوچ، عظمٰی بخاری، طلعت یعقوب، سمیع اللہ، احسان اللہ وقاص، پیپلز پارٹی کے عہدیدار چودھری غلام عباس اور ساجدہ میر سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں اور خواتین محاذ عمل کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین ’گو مشرف گو‘، ’ہم مانگیں آزادی‘ اور ’عدلیہ کی آزادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر صدر جنرل پرویز مشرف کے مخالف نعرے درج تھے۔ وکلاء نے حکمران جماعت کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے دفتر کے سامنے زبردست نعرے بازی بھی کی۔ جلوس کے بعد وکلاء پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ مظاہرے سے قبل لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے الگ الگ اجلاس ہوئے جن میں کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی گئی۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ ان شہروں میں بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور عدالتوں کے احاطوں میں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے گئے۔ |
اسی بارے میں لاہور بار: سات وکلا کی رکنیت ختم11 May, 2007 | پاکستان لاہور: استقبال کے لیے سولہ جج آئے06 May, 2007 | پاکستان کراچی کے خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان متحدہ کےخلاف ملک گیرمظاہرے13 May, 2007 | پاکستان مزید ہلاکتیں، رینجرز تعینات13 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||