حکمت عملی، لائحہ عمل اور خودکش حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مقتدر حلقوں میں جب بھی قبائلی علاقوں کی صورتحال کا ذکر چھڑتا ہے تو صدر مشرف کا ایک ہی اصرار ہوتا ہے کہ ہمیں لائحہ عمل اور حکمت عملی میں تمیز کرنی چاہیے۔ صدر پاکستان کے مطابق ان کی حکمت عملی میں کوئی خرابی نہیں اور اگر لائحہ عمل میں کہیں کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو اس کا یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہئیے کہ پوری کی پوری حکمت عملی ہی خراب ہے۔ اب تک وہ دنیا کے ہر فورم پر یہ دلیل بڑی کامیابی سے پیش کر چکے ہیں۔ لیکن وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ پر قاتلانہ حملے کے بعد صدر مشرف کی حکمت عملی کے بارے میں نئے سوالات کا اٹھنا ایک فطری اور متوقع عمل ہے۔ چارسدہ میں ہونے والے خودکش حملے کے فوراً بعد سیکرٹری داخلہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملک بھر اور خاص طور پر صوبہ سرحد میں سکیورٹی حکام نے ممکنہ خود کش حملوں کے پیش نظر ہائی الرٹ کا حکم جاری کر رکھا تھا۔ شاید اسی لیے حملے کے اگلے ہی روز وزیر داخلہ سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا کہ چارسدہ کے حملے میں قبائلی رہنما عبداللہ محسود کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ گو سوموار کو ہونے والی وزارت داخلہ کی بریفنگ میں وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ انہوں نے کسی مخصوص گروہ یا شخص کا نام نہیں لیا لیکن اس دوران انٹیلیجنس اور دیگر سکیورٹی حکام نے خودکش حملے کا تانا بانا قبائلی علاقوں سے جوڑنا شروع کر دیا۔ یاد رہے کہ اس سال اب تک ہونے والے تمام آٹھ خودکش حملے قبائلی رہنماؤں کی طرف سے ان کے علاقوں پر ہونے والے فوجی حملوں کے خلاف باقاعدہ بدلے کی دھمکیوں کے بعد وقوع پذیر ہوئے۔ ان حملوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب پاکستانی فوج نے وزیرستان میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں پر حملہ کر کے 20 کے قریب قبائلی جنگجؤ ہلاک کر دیے تھے۔ اس کارروائی کے بعد محسود قبائل کے رہنما بیت اللہ محسود نے دھمکی دی تھی کے پاکستانی حکام ان کے جوابی حملےکا درد محسوس کریں گے۔ اس دھمکی کے چند ہی روز بعد خودکش حملوں کا ایک سلسلہ چل نکلا جو ابھی تک جاری ہے۔ آفتاب شیرپاؤ پر ہونے والے حملے سے صرف ایک روز پہلے وزیرستان کے گاؤں سیدگئی پر ایک میزائل حملے میں تین افراد ہلاک ہو ئے تھے۔
مبصرین کے مطابق اگر حالیہ خودکش حملے قبائلی علاقوں کی صورتحال سے جڑے ہیں تو پھر وقت آ گیا ہے کہ صدر مشرف کی حکمت عملی کو باقاعدہ زیر بحث لایا جائے۔ ان کے مطابق وزیرستان میں کبھی دشمن اور کبھی دوست کی پالیسی نے طالبان کو قبائلی علاقوں میں ہی نہیں ملک بھر میں منظم ہونے کا موقع دیا ہے۔ پچھلے چند ہفتوں میں ملا داداللہ سمیت بیشتر قبائلی رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا جال پورے پاکستان میں پھیل چکا ہے اور وہ جب چاہیں جہاں چاہیں حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر صدر مشرف کا یہ دعویٰ روز بروز کمزور پڑتا جا رہا ہے کہ قبائلی علاقوں کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان کی حکمت عملی درست ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر مشرف غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرتے ہیں یا خودکش دھماکوں کا یہ سلسلہ یونہی معصوم زندگیوں سے کھیلتا رہے گا۔ |
اسی بارے میں سیدگئی’حملہ‘، طالبان کی برہمی27 April, 2007 | پاکستان طالبان کی کارروائی کشیدگی کا باعث13 April, 2007 | پاکستان اعلان جنگ کردیں گے، طالبان کمانڈر23 March, 2007 | پاکستان ’پاکستان میں ہمارا مضبوط نیٹورک ہے‘10 March, 2007 | پاکستان کمانڈ کنٹرول قبائلی علاقے میں نہیں28 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||