BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 April, 2007, 17:32 GMT 22:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکمت عملی، لائحہ عمل اور خودکش حملے

مشرف
وزیرستان میں کبھی دشمن اور کبھی دوست کی پالیسی نے طالبان کو منظم ہونے کا موقع فراہم کیا ہے
پاکستان کے مقتدر حلقوں میں جب بھی قبائلی علاقوں کی صورتحال کا ذکر چھڑتا ہے تو صدر مشرف کا ایک ہی اصرار ہوتا ہے کہ ہمیں لائحہ عمل اور حکمت عملی میں تمیز کرنی چاہیے۔


صدر پاکستان کے مطابق ان کی حکمت عملی میں کوئی خرابی نہیں اور اگر لائحہ عمل میں کہیں کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو اس کا یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہئیے کہ پوری کی پوری حکمت عملی ہی خراب ہے۔

اب تک وہ دنیا کے ہر فورم پر یہ دلیل بڑی کامیابی سے پیش کر چکے ہیں۔ لیکن وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ پر قاتلانہ حملے کے بعد صدر مشرف کی حکمت عملی کے بارے میں نئے سوالات کا اٹھنا ایک فطری اور متوقع عمل ہے۔

چارسدہ میں ہونے والے خودکش حملے کے فوراً بعد سیکرٹری داخلہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملک بھر اور خاص طور پر صوبہ سرحد میں سکیورٹی حکام نے ممکنہ خود کش حملوں کے پیش نظر ہائی الرٹ کا حکم جاری کر رکھا تھا۔

شاید اسی لیے حملے کے اگلے ہی روز وزیر داخلہ سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا کہ چارسدہ کے حملے میں قبائلی رہنما عبداللہ محسود کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

 اس سال اب تک ہونے والے تمام آٹھ خودکش حملے قبائلی رہنماؤں کی طرف سے ان کے علاقوں پر ہونے والے فوجی حملوں کے خلاف باقاعدہ بدلے کی دھمکیوں کے بعد وقوع پذیر ہوئے

گو سوموار کو ہونے والی وزارت داخلہ کی بریفنگ میں وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ انہوں نے کسی مخصوص گروہ یا شخص کا نام نہیں لیا لیکن اس دوران انٹیلیجنس اور دیگر سکیورٹی حکام نے خودکش حملے کا تانا بانا قبائلی علاقوں سے جوڑنا شروع کر دیا۔

یاد رہے کہ اس سال اب تک ہونے والے تمام آٹھ خودکش حملے قبائلی رہنماؤں کی طرف سے ان کے علاقوں پر ہونے والے فوجی حملوں کے خلاف باقاعدہ بدلے کی دھمکیوں کے بعد وقوع پذیر ہوئے۔

ان حملوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب پاکستانی فوج نے وزیرستان میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں پر حملہ کر کے 20 کے قریب قبائلی جنگجؤ ہلاک کر دیے تھے۔ اس کارروائی کے بعد محسود قبائل کے رہنما بیت اللہ محسود نے دھمکی دی تھی کے پاکستانی حکام ان کے جوابی حملےکا درد محسوس کریں گے۔

اس دھمکی کے چند ہی روز بعد خودکش حملوں کا ایک سلسلہ چل نکلا جو ابھی تک جاری ہے۔

آفتاب شیرپاؤ پر ہونے والے حملے سے صرف ایک روز پہلے وزیرستان کے گاؤں سیدگئی پر ایک میزائل حملے میں تین افراد ہلاک ہو ئے تھے۔

وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملے کے بعد صدر مشرف کی حکمت عملی کے بارے میں سوالات کا اٹھنا فطری عمل ہے

مبصرین کے مطابق اگر حالیہ خودکش حملے قبائلی علاقوں کی صورتحال سے جڑے ہیں تو پھر وقت آ گیا ہے کہ صدر مشرف کی حکمت عملی کو باقاعدہ زیر بحث لایا جائے۔ ان کے مطابق وزیرستان میں کبھی دشمن اور کبھی دوست کی پالیسی نے طالبان کو قبائلی علاقوں میں ہی نہیں ملک بھر میں منظم ہونے کا موقع دیا ہے۔

پچھلے چند ہفتوں میں ملا داداللہ سمیت بیشتر قبائلی رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا جال پورے پاکستان میں پھیل چکا ہے اور وہ جب چاہیں جہاں چاہیں حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر صدر مشرف کا یہ دعویٰ روز بروز کمزور پڑتا جا رہا ہے کہ قبائلی علاقوں کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان کی حکمت عملی درست ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر مشرف غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرتے ہیں یا خودکش دھماکوں کا یہ سلسلہ یونہی معصوم زندگیوں سے کھیلتا رہے گا۔

طالبان(فائل فوٹو)وزیرستان میں امن
طالبان کا امن معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ
خود کش حملہچار ماہ، آٹھ حملے
پاکستان میں اس سال کا آٹھواں خود کش حملہ
موسیقی پر حملہ
طالبانائزیشن کی پہنچ پشاور تک؟
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
بیت اللہ محسود’میں ملوث نہیں‘
بیت اللہ کا خود کش حملوں سے اعلان لاتعلقی
پاکستان اور طالبان
امریکی کانگریس میں پاکستان پر نیا بِل
سی ڈیطالبان ’پراپیگنڈا‘
’خودکش حملہ آور بنو، جنت میں جاؤ‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد