ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | طالبان پہلے بھی سی ڈیز کی خرید و فروخـت روکنے کی کوشش کرچکے ہیں |
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں اتوار کو سی ڈیز کی ایک مارکیٹ میں بم دھماکے کے بعد یہ سوال ابھرا ہے کہ کیا اب طالبانائزیشن کی مہم پشاور تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن پولیس حکام نے یہ بات ماننے سے انکار کیا ہے کہ اتوار کو ہونے والا یہ دھماکہ صوبے میں پھیلتی ہوئی طالبانائزیشن کی ایک مہم کا حصہ ہوسکتا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس سرحد شریف ورک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں اور وہ اس مارکیٹ کے چوکیدار سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں جس نے چند مشکوک افراد کو دیکھنے کی بات کی ہے۔ پشاور کے کوہاٹ روڈ کے علاقے میں سی ڈی کے کاروبار کے لیے مشہور گلشن مارکیٹ میں نامعلوم افراد کی طرف سے ایک دکان کے سامنے رکھا ہوا بم پھٹنے سے مارکیٹ کا چوکیدار اور ایک راہگیر زخمی ہوگئے تھے۔ مارکیٹ کے ایک دکاندار گلزار نے بتایا کہ انہیں چار ماہ قبل مختلف ناموں سے ایسے خطوط موصول ہوئے تھے جن میں انہیں یہ کاروبار بند کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان خطوط کے آخر میں کبھی ’طالبان‘ اور کبھی کسی دینی جماعت کا نام ہوتا تھا۔  | صوبہ سرحد میں طالبانائزیشن  سی ڈیز کی دکانوں کو نشانہ بنانے کا عمل جنوبی وزیرستان کے قریب واقع صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک سے شروع ہوا جو ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، دیر اور درہ آدم خیل سے ہوتا ہوا بظاہر اب پشاور پہنچا ہے۔  |
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ خطوط انہوں نے پولیس کے حوالے کیے تھے تاہم ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔انسپکٹر جنرل شریف ورک کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ دنوں پشاور میں مختلف مقامات پر اس قسم کے دھمکی آمیز خطوط بھیجنے والوں کو پکڑا بھی تو انہوں نے اسے شرارت قرار دیا اور ان کا کسی شدت پسند تنظیم سے تعلق ثابت نہیں ہوا تھا۔ ’میں اس واقعہ کو طالبانائزیشن کی کیٹگری میں ابھی نہیں ڈالوں گا۔ اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ابھی ہم تفتیش کر رہے ہیں۔‘ سی ڈیز کی دکانوں کو نشانہ بنانے کا عمل جنوبی وزیرستان کے قریب واقع صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک سے شروع ہوا جو ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، دیر اور درہ آدم خیل سے ہوتا ہوا بظاہر اب پشاور پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں لڑکیوں کے سکولوں اور حجاموں کو بھی اس قسم کے خطوط ملے ہیں جبکہ درہ آدم خیل میں لڑکیوں کے سکولوں اور حجام کی دکان کو بم سے نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ ابھی تک اس ’دھمکی آمیز خطوط‘ مہم میں حکام کی جانب سے بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، نہ کوئی پکڑا گیا اور نہ کسی کو سزا ہوئی۔ کئی مبصرین کے خیال میں اسی ناکامی کی وجہ سے خطوط کا یہ سلسلہ بظاہر ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ مسلسل پھیل رہا ہے۔ |