پاکستان پر بھی طالبان کے سائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسے جیسے موسم بہار کا آغاز ہورہا ہے افغانستان سے ملحقہ پاکستان کےقبائلی علاقوں میں طالبان جنگجووں کی موجودگی میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ جہاں یہ افغانستان میں موجود امریکی افواج کے لیے ایک نیک شگون نہیں ہے وہاں یہ پاکستانی حکومت کو درپیش مسائل کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان کو طالبان اور انکے اتحادیوں سے خطرے کا سامنا ہے جو کوشش کررہے ہیں کہ اپنی طاقت کو مشرق کی جانب شمال مغربی سرحدی صوبے کے اندر مزید تقویت دیں۔ انہوں نے پہلے ہی سے صوبہ سرحد میں اپنے لئے دو محفوظ پناگاہیں تلاش کررکھی ہیں۔دو ہزار چار اور پانچ میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں امن کے معاہدے کرنے کے بعد وہاں اپنے ٹھکانے بنائے ہیں۔ امن معاہدے نے طالبان کے بعض دھڑوں کو اس قابل بنادیا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں صوبہ سرحد کے شہروں اور قصبوں میں اس طرح سے کھلے عام گھومیں پھیریں کہ مقامی انتظامیہ خود کو دباؤ میں محسوس کرے۔
پچھلے سال طالبان نےشمالی وزیرستان سے ملحقہ علاقے ٹانک میں اپنی موجودگی میں بتدریج اضافہ کیا جسکی وجہ سے مقامی انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ وہاں پر موجود پولیس نے پانچ بڑی چوکیوں میں سے چار کوخالی کردیاہے جبکہ پولیس سٹیشن کے گیٹ بند پڑے ہیں۔ پولیس نے ٹانک میں موجود نو بینکوں کے اہلکاروں سے کہا ہےکہ وہ اپنی حفاظت کا انتظام خود کریں تاہم عدالتیں اب بھی کام کررہی ہیں البتہ معاملات کو سلجھانے کا اختیار علاقے میں موجود طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ طالبان کا شمالی ضلع بنوں اور ملحقہ علاقے لکی مروت کے دیہاتی علاقوں پر بھی مکمل طور پر غلبہ قائم ہے۔
صوبہ سرحد کے وزیراعلی کے میڈیا سیکریٹری بہرمند جان کا کہنا ہے کہ ’ ہم نے سوچا تھا کہ شدت پسند افغانستان میں موجود بیرونی افواج کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ الٹا ہمیں ہی نشانہ بنارہے ہیں۔، سوال یہ ہے کہ پاکستان کے علاقوں میں طالبان کی اس مداخلت کا راستہ کیوں نہیں روکا جارہا ہے۔؟ صوبہ سرحد میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نےجان بوجھ کر طالبان کو اجازت دی ہے کہ وہ علاقے میں اثر رسوخ میں اضافہ کر دیں۔
صوبہ سرحد کے گورنر علی محمد جان اورکزئی نے بظاہر اسی قسم کی ایک دلیل دی ہے جب انہوں نے گزشتہ ماہ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان تحریک ’ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے خلاف کسی حد تک ایک قوم پرست یا آزادی کی تحریک میں بدل رہی ہے۔، تاہم پشاور میں بعض اعلٰی انتظامی افسران کا کہنا ہے کہ حکومت طالبان کے ساتھ کوئی گٹھ جوڑ نہیں کررہی ہے۔ دوسری طرف انکا کہنا ہے کہ دراصل حکومت کے پاس افغانستان کے سرحد سے ملحقہ علاقوں اور صوبے کے زیر انتطام قبائلی علاقوں میں طالبان کی بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے نمٹنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔
صوبہ سرحد کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی غیر محفوظ ہونے کی وجہ وہاں پر طاقت میں موجود خلا کا ہے جہاں سکیورٹی کا انتظام نیم فوجی فرنٹیئر کانسٹبلری کے ہاتھ میں ہوتا ہے جن کا انتخاب قبیلوں سے کیا جاتا ہے۔ فرنٹییئر کانسٹبلری کے کمانڈنٹ ملک نوید کا کہنا ہے کہ ’ فورس کے دو تہائی سپاہی صوبے کے زیر انتظام علاقوں سے باہر تعینات ہیں جسکی وجہ سے ان علاقوں میں بہت کم فورس رہ گئی ہے۔، قبائلیوں پر مشتمل ایک دوسری نیم فوجی فورس سرحدی ملیشاہ جن کےافسران فوج سے لئے جا تے ہیں بڑی حد تک جنوبی اور شمالی وزیرستان میں جاری کاروائی میں برسرپیکار ہیں اور ایسا معلو م ہوتا ہے کہ اکثر اوقات فوج تیار نہیں ہوتی کہ وہ وزیرستان میں شدت پسندوں کےخلاف حملہ کرے۔ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں ایک طالب جنگجو نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان پار کرنے والے طالبا ن جنگجو بیشتر اوقات سرحد پر موجود فوج اور ملیشاء کے چیک پوسٹوں پر جن پر فوجی اور ملیشاء کے اہلکار تعینات ہوتے ہیں بیٹھ کر تازم دم ہوتے ہیں۔ دوہزار تین میں پاکستانی فوج کی پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں میں داخل ہونے کے بعد جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں سات سو سے زیادہ پاکستانی سپاہی ہلاک ہوچکے ہیں۔ان علاقوں میں اس سے قبل مرکزی حکومت اختیارات کاجزوی استعمال کرتی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کی ہلاکت نے فوج کو مجبور کردیا کہ وہ وزیرستان میں قبائلیوں کے ساتھ امن معاہدہ کرے تاہم قبائلی علاقوں اور افغانستان میں اس سے امن کا قیام کا حاصل نہیں ہوسکا۔ایسا لگتا ہے کہ امن کے ان معاہدوں نے خود پاکستان میں امن کی صورتحال کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||