| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
رقص کناں مسلح پختونوں کا وزیرستان
اپنے ہتھیاروں کے ساتھ رقص کرتے پختون وزیرستان کے علاقے میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد کی دونوں جانب آباد ہیں۔ مسعود اور وزیر یہاں کہ دو بڑے پختون قبائل ہیں۔ یہاں طالبان کے لئے ماضی میں کافی حمایت پائی جاتی تھی جس کی بنیاد پر افغان حکام اسے طالبان کی بڑی پناہ گاہ قرار دیتے ہیں۔ افغان وزیرداخلہ علی احمد جلالی نے تو گزشتہ دنوں وزیرستان کا نام لے کر کہا تھا کہ یہاں طالبان چھپے ہوئے ہیں۔ افغان حکومت اس علاقے میں بار بار پاکستان سے ان افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ یہ علاقہ جنگی اعتبار سے انتہائی دشوار ہے اونچا خشک پہاڑی علاقہ ہونے کے ساتھ ساتھ کھلے میدان بھی ہیں اور کچے راستے کی وجہ سے سفر بھی آسان نہیں۔ اس علاقے میں لڑائی کافی خونریز ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ وہ پہلا قبائلی علاقہ ہے جہاں پاکستان نے اپنی فوج تعینات کی تھی۔ شمالی وزیرستان سے افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا کی سرحد ملتی ہے جہاں طالبان کے حملے امریکیوں کے لئے آج کل دردسر بنے ہوئے ہیں۔حالیہ دنوں میں طالبان نے پکتیکا کے برمل ضلع کے علاوہ زابل کے کئی اضلاع پر بھی قبضے کے دعوے کئے تھے۔ گزشتہ دنوں اس علاقے میں ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا تھا |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||