کمانڈ کنٹرول قبائلی علاقے میں نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے افغانستان میں لڑنے والے طالبان شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے نہیں ہیں اور اگر امریکہ سمیت کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے۔ انگریزی روزنامہ ڈان میں امریکہ کے جنوبی ایشیا کے متعلق نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر پر جب ان کا رد عمل جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کہ تاحال امریکہ پاکستان کے کردار کی تعریف کرتا رہا ہے اور کبھی تشویش کا اظہار نہیں کیا۔ اخبار نے کہا ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں طالبان مضبوط ہورہے ہیں اور اس علاقے کو طالبان ایک محفوظ ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ خبر میں رچرڈ باؤچر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اپنی تشویش سے پاکستان کو آگاہ کردیا ہے۔ لیکن پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ تاحال امریکہ نے انہیں اس بارے میں مطلع نہیں کیا اور جب بھی امریکی نمائندے ملتے ہیں تو وہ پاکستان کی پالیسی کی تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیس لاکھ افغان پناہ گزیں ہیں اور سرحد پر قائم کیمپوں میں بھی کئی مقیم ہیں اور اس بارے میں پاکستان کو تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پناہ گزینوں کو افغانستان منتقل کرنے کا انتظام کرے۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر پاکستان کو بھی تشویش ہے لیکن ان کے مطابق افغانستان میں شدت پسندی کے واقعات اندرونی عناصر کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ اور اب اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کی رپورٹ میں افغانستان میں شدت پسندی کے متعلق مفصل معلومات دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ شدت پسندی کے مراکز افغانستان کے پانچ صوبوں میں واقع ہیں۔ | اسی بارے میں پاک افغان تعلقات میں دلچسپی15 December, 2006 | پاکستان افغانستان: پاکستانی ’ایجنٹ‘ گرفتار19 December, 2006 | پاکستان کمزوریاں دور کریں: اورکزئی22 December, 2006 | پاکستان طالبانی نے مہمان بلائے، امریکیوں نے پکڑ لیے25 December, 2006 | آس پاس باڑ، بارودی سرنگ، ملا جلا ردِعمل27 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||