BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 March, 2007, 14:09 GMT 19:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعلان جنگ کردیں گے، طالبان کمانڈر

حاجی عمر
’اگر پاکستان معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے خلاف لڑنا چاہتا ہے تو ہم بھی اس کے خلاف لڑ سکتے ہیں‘
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر حاجی عمر نے دھمکی دی ہے کہ اگر علاقے پر پاکستانی فوج کی بمباری جاری رہی تو وہ امن معاہدہ توڑ کر حکومت کے خلاف جنگ کا اعلان کردیں گے۔

حاجی عمر نے جنوبی وزیرستان سے سیٹلائٹ فون پر بی بی سی سے بات کر تے ہوئے الزام لگایا کہ پاکستانی فوج نے اعظم ورسک اور شین ورسک میں عام آبادی کو توپوں کا نشانہ بنایا ہے تاہم ان کے بقول حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اس سے قبل پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل ارشد وحید نے اس بات کی تردید کی تھی کہ حالیہ لڑائی کے دوران فوج نے کسی قسم کی کوئی کارروائی کی ہے۔

حاجی عمر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور ان کے درمیان دو سال قبل ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے پر حملے نہیں کریں گے لیکن بقول ان کےحکومت نے حملہ کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

حاجی عمر کے الفاظ میں ’ہم پوچھتے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے حملہ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا ہے یا اس کا کوئی اور مقصد تھا؟‘۔

انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر پاکستان معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے خلاف لڑنا چاہتا ہے تو ہم بھی اس کے خلاف لڑ سکتے ہیں‘۔

مقامیوں اور غیر ملکیوں میں لڑائی کی تردید
 حاجی عمر نے اس بات کی بھی تردید کی کہ یہ لڑائی مقامی جنگجوؤں اور ازبک عسکریت پسندوں کے درمیان ہوئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قبائل کے درمیان معمول کی ایک لڑائی تھی جس میں محض چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں

جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کمانڈر مولوی نذیر کے وفادار جنگجوؤں اور ازبک عسکریت پسندوں کے درمیان گزشتہ کئی روز کی لڑائی میں حکومت کے مطابق ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک سو تیس ازبک شامل ہیں۔ تاہم مقامی لوگ ہلاک ہونے والوں کی تعداد چونتیس بتا رہے ہیں۔

حاجی عمر نے اس بات کی بھی تردید کی کہ یہ لڑائی مقامی جنگجوؤں اور ازبک عسکریت پسندوں کے درمیان ہوئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قبائل کے درمیان معمول کی ایک لڑائی تھی جس میں محض چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل کہ ان سے لڑائی اور لڑائی میں ان کے کردار سے متعلق دیگر سوالات پو چھے جاتے حاجی عمر نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ فضا میں ایک جنگی طیارہ پرواز کر رہا ہے لہذا میزائل کا نشانہ بننے کے خوف سے وہ بات مزید جاری نہیں رکھ سکتے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان کی حالیہ لڑائی میں حاجی عمر ازبک جنگجوؤں کی حمایت کر رہے ہیں۔

حاجی عمر اور ان کے بھائیوں حاجی شریف اور نورالسلام نے نومبر دوہزار چار میں حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا تھا۔

جنوبی وزیرستان میں لڑائی کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ کسی طالب کمانڈر نے ذرائع ابلاغ سے رابطہ کیاہے۔

اسی کی دہائی کی یاد
’دھماکہ افغانستان یا وزیرستان سے جُڑاہوا ہے‘
وزیرستانطالبان سے معاہدہ
وزیرستان خطے میں امن فارمولوں کی تجربہ گاہ
جرگہمذاکرات شروع
وزیرستان: جرگے کو درپیش مسائل
جنگ بندی کتنی موثر
بالآخر شمالی وزیرستان سے اچھی خبر آئی ہے
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
وزیرستان کا نقشہصحافت کی چاندی
وانا کے صحافی دنیا کو پل پل کی خبریں دےرہے ہیں
نیک محمدسوداگر طالب
نیک محمد کے طالبان سے پرانے تعلقات تھے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد