BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 March, 2007, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا میں لڑنے والے کون ہیں؟

قبائل
اعظم ورسک میں جو جھڑپیں ہوئی ہیں ان میں اب تک کی محدود معلومات کے مطابق دو واضح فریق سامنے آئے ہیں (فائل فوٹو)
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چار روز سے جاری لڑائی کے بارے میں حکومت تو یہ تاثر دے رہی ہے کہ مقامی قبائلی غیرملکیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں، لیکن صورتحال شاید اتنی آسان اور واضح نہیں۔

جنوبی وزیرستان میں اس وقت وانا کے مغرب میں اعظم ورسک کے علاقے میں جو جھڑپیں ہوئی ہیں ان میں اب تک کی محدود معلومات کے مطابق دو واضح فریق سامنے آئے ہیں۔ ایک فریق مقامی طالبان کے سربراہ مولوی نذیر ہیں جنہیں بظاہر اکثر مقامی قبائل کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب سینکڑوں کی تعداد میں وہاں دو دہائیوں سے بسنے والے غیرملکی ازبک ہیں جنہیں یارگل خیل قبیلے کے حاجی عمر، حاجی شریف اور نور اسلام کی مدد حاصل ہے۔

یارگل خیل قبیلے کیے ان بھائیوں کا تعلق پیر خیل شاخ سے تعلق ہے جن کا ماضی میں افغانستان میں روسی افواج کے خلاف مزاحمت کے دوران ان غیرملکی جنگجوؤں سے انتہائی قریبی تعلق رہا تھا۔ ان لوگوں نے اس تعلق کے دوران ازبک زبان بھی سیکھی ہے۔

ایک جانب سینکڑوں کی تعداد میں وہاں دو دہائیوں سے بسنے والے غیرملکی ازبک ہیں جنہیں یارگل خیل قبیلے کے حاجی عمر، حاجی شریف اور نور اسلام جیسے بھائیوں کی مدد حاصل ہے

ایک میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے جنگجووں کے سربراہ نیک محمد کا بھی اسی قبیلے سے تعلق تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ قبیلہ ایک مرتبہ پھر غیرملکیوں کی حمایت کی وجہ سے دیگر قبیلوں کے مدمقابل آ گیا ہے۔ مقامی قبائلی جرگے نے اس وجہ سے یارگل خیل سے وضاحت بھی طلب کی ہے۔

قبائلی علاقوں کے لیے سابق سیکریٹری سکیورٹی محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان تعلقات میں پیسہ اور دیگر وجوہات بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل کور کمانڈر پشاور لیفٹنٹ جنرل صفدر حسین کے حوالے سے ایک خبر سامنے آئی تھی کہ انہوں نے حاجی شریف اور ان کے گروپ کے دیگر افراد کو غیرملکیوں کا قرضہ اتارنے اور حکومت کی حمایت کرنے کے لیے خطیر رقمیں بھی ادا کی تھیں جن کی حاجی شریف اور عمر نے تردید کی تھی۔

دوسری جانب پینتالیس سالہ مولوی نذیر ہیں۔ انہیں گزشتہ دنوں جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ خاموش طبیعت کے مالک مولوی نذیر بھی افغانستان میں لڑ چکے ہیں اور ان کا تعلق گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی سے رہ چکا ہے۔

کاکاخیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے مولوی نذیر میانہ رو بتائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین کے خیال میں وہ حکومت کے لیے قابل قبول ہیں۔ مولوی نذیر کو اس تنازعے میں ملنگ گروپ اور میٹھا خان کی حمایت بھی حاصل ہے۔

حاجی عمر اور مولوی نذیر کے بعد جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کا تیسرا بڑا گروپ بیت اللہ محسود کا ہے۔ ان کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ اس لڑائی کے شدید خلاف ہیں اور اسے دشمن کے فائدہ میں مانتے ہوئے جنگ روکوانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

 علاقے میں مقامی شدت پسندوں کے گروپوں کے علاوہ حزب المجاہدین جیسی کئی کالعدم جہادی تنظیمیں بھی موجود ہیں۔ ان کے اکثر کارکنوں کا تعلق پاکستان کے پنجاب اور سندھ صوبوں سے ہے، اسی لیے انہیں پنجابی مجاہدین کہتے ہیں

علاقے میں مقامی شدت پسندوں کے گروپوں کے علاوہ حزب المجاہدین جیسی کئی کالعدم جہادی تنظیمیں بھی موجود ہیں۔ ان کے اکثر کارکنوں کا تعلق پاکستان کے پنجاب اور سندھ صوبوں سے ہے، اسی لیے انہیں پنجابی مجاہدین کہتے ہیں۔

ان سب تنظیموں کا آپس میں تعلق کس قسم کا ہے یہ پوری طرح واضح نہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ ہر گروپ اپنے طور پر کسی حد تک کارروائیوں میں آزاد ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہرگروپ نے اپنی کارروائیوں کی تشہیر کے لیے الگ الگ سٹوڈیو بھی قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ روزانہ سی ڈیز جاری کرتے رہتے ہیں۔

تاہم ایک بات واضح ہے کہ یہ سب کا سب کسی ایک قیادت کے زیر انتظام ضرور ہیں۔ گزشتہ دنوں بات چیت میں بیت اللہ نے واضح کر دیا تھا کہ وہ اسلامی امارات کے ماتحت ہیں۔ اسلامی امارت ماضی میں طالبان اپنی حکومت کے لیے استعمال کرتے تھے۔

پھر ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ ملا محمد عمر نے اپنے سابق وزیر جلال الدین حقانی کو وزیرستان میں طالبان کو منظم کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ اب خبریں ہیں کہ ان کے بیٹے سراج الدین حقانی کافی متحرک ہیں اور موجودہ وقت میں جنگ بندی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان غیرملکیوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بدنام کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے جس میں حکومتی اداروں کا ہاتھ خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا

وانا سے تقریباً بارہ کلومیٹر مغرب میں افغانستان جانے والی سڑک پر واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جون سن دو ہزار دو میں پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی اسی علاقے سے کی تھی۔

اُس جھڑپ میں گیارہ سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ چھ ازبک جنگجو بھی مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ اس وقت درجنوں غیر ملکیوں کے فرار ہو جانے کی بھی اطلاعات تھیں۔

حالیہ لڑائی کی وجہ ان غیرملکیوں کے مخالفین علاقے میں کافی عرصے سے ان کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ان غیرملکیوں کی مقامی قبائلی روایات سے سرکشی، چوری چکاری اور دیگر جرائم میں ملوث ہونا ہے۔

لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان غیرملکیوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بدنام کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے جس میں حکومتی اداروں کا ہاتھ خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کا موقف ہے کہ کل تک ان غیرملکیوں کو مجاہد کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا لیکن آج انہیں ایک مقصد کے تحت جرائم پیشہ قرار دیا جا رہا ہے۔

جنوبی وزیرستانوزیرستان پر حملہ
’بیٹا مارا گیا، کچھ نہیں چاہیے، ظلم ہوا، بس‘
طالبان(فائل فوٹو)پنجابی طالبان کون؟
وزیرستان کے نئے جنگجو:عامر احمد خان
طالبانطالبان کی واپسی
ایک کمانڈر کےساتھ بی بی سی صحافی کا سفر
طالبانطالبان کے ساتھ
ہارون رشید کا طالبان کے سات سفر کا قصہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد