’بیٹا مارا گیا، انہوں نے بس بہت ظلم کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خود مقامی قبائلی نہیں جانتے اس جگہ کا نام کیا ہے جہاں گزشتہ منگل کی صبح پاکستانی فوج کا کہنا ہے اس نے فضائی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مشتبہ شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو تباہ کیا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے ذرائع ابلاغ کو اس کارروائی کی سب سے پہلے اطلاع دیتے ہوئے اس جگہ کا نام زمزولہ بتایا، مقامی قبائلی چونکہ شوکت سلطان کی کسی بات سے متفق نہیں لہذا اس نام سے بھی نہیں۔ بعض اسے سلامت ژوڑ، کوئی اسے ہمزولہ اور کوئی اسے کوٹ کلے قرار دیتا ہے۔
شمالی وزیرستان کے میرعلی شہر سے جنوب کی جانب خیسور کے علاقے سے ایک سڑک اس علاقے کے لیے نکلتی ہے۔ قافلے کی شکل میں اس سفر تک پہنچنے میں تین گھنٹے لگتے ہیں۔ ایک قدرے نیچی پہاڑی پر پانچ کچے مکانات ایک دوسرے سے مختلف فاصلوں پر واقعے ہیں۔ اس پہاڑی کے اردگرد اونچے پہاڑ ایک مضبوط چار دیواری کا کام کرتے ہیں۔ ان پہاڑوں کو مری یا گلیات کی طرز کے اونچے تو نہیں لیکن قدرے درمیانے قد کے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ یہ درخت صرف سوختہ لکڑی پیدا کرتے ہیں اور کچھ نہیں۔ مقامی قبائلیوں نے بتایا کہ یہ پانچ کچے مکانات ان مزدوروں کی رات کی رہائش گاہ کا کام دیتے ہیں جو ان جنگلات میں لکڑیاں کاٹتے ہیں۔ یہاں عورتیں یا بچے نہیں رہتے۔ ا
ان مکانات میں اگرچہ عورتیں نہیں رہتی تھیں تاہم پھر بھی یہ روایتی قبائلی مکانات کی طرح انتہائی اونچی دیواروں پر مشتمل تھے۔ تینوں میں ایک یا دو کمرے جبکہ وسیع احاطے تھے۔ اس علاقے کا روپوشی کے لیے موزوں ہونے پر بھی دورہ کرنے والے صحافیوں میں اتفاق رائے نہیں تھا۔ کوئی اسی چھپنے کے لیے انتہائی مناسب قرار دیتے رہے جبکہ باقی کا کہنا تھا کہ یہاں چھپنے سے تو با آسانی واضح ہو جائے گا کہ کون آتا جاتا ہے۔ غیرملکی جنگجوؤں کے لیے آباد علاقے زیادہ مناسب ہوں گے۔ بیت اللہ محسود گروپ نے پشاور اور قبائلی صحافیوں کے لیے اس دورے کا انتظام فوج کے چھاپے سے دو روز بعد کیا۔ ایسے میں کوئی فیصلہ کرنا کہ آیا یہاں القاعدہ یا طالبان کے جنگجو موجود تھے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ لیکن اس موقع پر موجود قبائلی اور مقامی طالبان اس بات پر یک زبان تھے کہ مارے جانے والے آٹھ تھے اور تمام مقامی قبائلی تھے۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ ایسے دور افتادہ خطے میں کسی کے آنے سے قبل لاشیں خاموشی سے کسی اور جگہ باآسانی منتقل کی جاسکتی تھیں۔ غصے سے بپھرے ہوئے میر شاہ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ سب جھوٹ اور ناممکن ہے۔ پاکستان فوج کا دوسری جانب موقف تھا کہ حملے کے وقت وہاں پچیس سے تیس افراد موجود تھے۔ تاہم شوکت سلطان نے بھی بعد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہی بتائی۔
ایک مکان میں ہلاک ہونے والوں کے بال، کھال کے ٹکڑے اور کپڑوں کے چیتھڑے جمع کرکے رکھے گئے تھے۔ ان میں انگلیوں جیسے انسانی عضاء بھی تھے۔ قبائلی انہیں اٹھا اٹھا کر صحافیوں کے کیمروں کی توجہ حاصل کرتے رہے۔ جنگی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کے ذریعے داغے گئے میزائل اور راکٹوں کے ٹکڑے بھی نمائش کے لیئے موجود تھے۔ مقامی قبائلیوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کے آنے سے قبل پانچ انتہائی بڑے میزائل داغے گئے۔ ہر کسی نے ان کے طیاروں سے چلائے جانے کی بات کی۔ سب کو شک تھا کہ یہ شاید امریکی طیارے ہوں۔ تقریباً دو سو تیس کلو وزنی ان پانچ بڑے میزائلوں میں سے دو پھٹ نہیں سکے تھے۔ ایک تو زمین میں سوراخ کرتا ہوا اندر چلا گیا جبکہ دوسرا ایک کمرے کی چھت میں سوراخ کرتا ہوا زمین میں ایک چھ فٹ گہرا نالہ سا بناتا ہوا کمرے کے دروازے کے پاس رُکا۔ پاکستانی فوج کے سربراہ شوکت سلطان نے بتایا کہ یہ بم وہ ماضی میں بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ عسکری ماہرین کہ مطابق بظاہر اتنے طاقتور بموں کے استعمال سے ظاہر ہوتا کہ فوج یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ہدف میں سے کوئی بچ نہ سکے۔ حملے کے مقام پر لے جانے سے قبل ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات کی خاطر صحافیوں کو کوٹ کلے لے جایا گیا۔ ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع اس چند درجن مکانات پر مشتمل گاؤں کے لوگ مسجد میں بڑی تعداد میں جمع تھے۔ گاؤں کے تمام مکانات کچے لیکن مسجد پکی اور صاف ستھری تھی۔ صحافیوں کے ساتھ آئے محسود جنگجوؤں نے لواحقین کو ان کے رشتہ داروں کے ’شہید’ ہونے پر مبارک باد بھی دی۔ ایک سفید ریش ساٹھ سالہ تعویز خان نے بتایا کہ اس کا سولہ سالہ بیٹا مرنے والوں میں شامل تھا۔ ’میں حکومت سے کچھ نہیں مانگتا نہ معاوضہ نہ کچھ اور۔ انہوں نے بس بہت ظلم کیا جس کا کوئی حساب نہیں‘۔ میر شاہ اعظم نے کہنا کہ ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ’یہاں کوئی غیرملکی نہیں۔ یہ صرف امریکہ کی خوشنودی کے لیے اور ڈالروں کے لیے اپنے لوگوں کو مار رہے ہیں‘۔ قبائلی علاقوں میں ماضی کی فوجی کارروائی سے یہ کارروائی اس اعتبار سے مختلف نہیں کہ فریقین کے موقف ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہیں۔ اس دورے کے بعد بھی صحافیوں کے ذہنوں میں وہی ابہام موجود ہے جو کارروائی کے پہلے روز تھا۔ | اسی بارے میں وزیرستان آپریشن، فضائیہ کا استعمال19 January, 2007 | پاکستان وزیرستان: متعدد شدت پسند ہلاک16 January, 2007 | پاکستان وزیرستان میں امن معاہدے پر زور16 January, 2007 | پاکستان ’طالبان کوئی ٹیکس نہیں لیتے‘11 December, 2006 | پاکستان گورنرسرحدپرحملہ: ملزم نہ دینے کی سزا14 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||