BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 January, 2007, 16:52 GMT 21:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان آپریشن، فضائیہ کا استعمال

کمرے کا فرش
بم اتنا طاقتور تھا کہ ایک مکان کی کچی چھت کو پھاڑتا ہوا کمرے کے فرش میں پانچ سے چھ فٹ اندر دھنس گیا
پاکستان فوج نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں مبینہ القاعدہ کے ایک ٹھکانے پر بمباری میں طیارے بھی استعمال کیے۔ اس سے قبل فوج صرف ہیلی کاپٹروں کے استمال کی بات کر رہی تھی۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ ان طیاروں کے ذریعے القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانے پر میزائل داغے گئے تھے۔

بی بی سی کے علاوہ دیگر صحافیوں نے کل جب اس جگہ کا دورہ کیا تو انہیں مقامی لوگوں نے دو سو بیس کلو وزنی ایک بم دکھایا جو پھٹ نہیں سکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے پانچ میزائل داغے گئے جن میں سے ایک نہیں پھٹ سکا۔

شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ یہ لیزر گائیڈڈ پرسیشن میزائل ہے جو زمین اور طیاروں سے داغے جا سکتے ہیں۔ ’جی ہم یہ میزائل بھی استعمال کرتے ہیں‘۔

تاہم انہوں نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا کہ اس حملے میں طیارے بھی استعمال ہوئے تھے۔ اس سے قبل حکومت صرف ہیلی کاپٹروں کو استعمال کیئے جانے کی بات کر رہی تھی۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ پہلے دھماکے ہوئے جن کے بعد ہیلی کاپٹر فضاء میں دکھائی دیئے۔

ایک مقامی جالندھر خان کیکڑے کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے بڑے میزائل تو ہیلی کاپٹروں سے نہیں داغے جاسکتے۔ ’ہیلی کاپٹروں نے تو صرف چھوٹے بم پھینکے جبکہ انہوں نے خوف سے بھاگنے والوں کا پیچھا بھی کیا‘۔

تقریباً چھ فٹ لمبے اس بم پر کئی نمبروں کے علاوہ اے ایم ایف یارک اور اس کا وزن لکھا ہوا ہے۔ یہ بم اتنا طاقتور تھا کہ ایک مکان کی کچی تنکوں والی چھت کو پھاڑتا ہوا کمرے کی زمین میں پانچ چھ فٹ گہرئی میں اندر دھنس گیا۔

ایک اور میزائل بھی زمین میں گڑھا کرتا ہوا اندر دھنس گیا لیکن پھٹا نہیں۔

جنوبی وزیرستان میں اس تازہ فوجی کارروائی کے بارے میں مقامی لوگ یہ شک بھی کر رہے ہیں کہ شاید باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کی طرح یہ حملہ بھی امریکی افواج نے افغانستان سے کیا ہو۔ تاہم پاکستانی حکام اس بات کی تردید کرتے ہیں۔

حملے کا مقام افغانستان کی سرحد سے تقریباً اسی کلومیٹر دور ہے۔ تاہم مقامی قبائلی مانتے ہیں کہ فضاء میں امریکی جاسوس طیارے ہر وقت گھومتے رہتے ہیں۔

اس سے قبل پاکستانی حکام بلوچستان میں بھی فضائی حملوں میں طیارے استعمال کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد