BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 January, 2007, 07:06 GMT 12:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم انتقامی کارروائی کریں گے‘

بیت اللہ محسود پاک فوج کے ساتھ معاہدہ امن پر دستخط کرتے ہوئے
بیت اللہ محسود پاک فوج کے ساتھ معاہدہ امن پر دستخط کرتے ہوئے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے ساتھ سرحد پر واقعے صوبہ سرحد کے شہر ٹانک میں بدھ کو دوسرے روز بھی فوجی کارروائی کے خلاف احتجاج ہوا ہے اور قبائلی طلبہ اور مقامی افراد نے اس احتجاج میں بڑی تعداد میں شرکت کی اور سڑکوں کو کئی گھنٹے بند رکھا۔

ادھر پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی جنگجوؤں کے رہنما بیت اللہ محسود نے بدھ کے روز ہونے والی ایک بیان میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایک روز قبل ان کے علاقے میں فوجی کارروائی کا انتقام ضرور لیں گے۔



بیت اللہ محسود نے بدھ کی صبح بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلیفون پر خصوصی بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ آئندہ دس سے پندرہ روز میں یہ انتقام لیں گے۔ ’یہ ایسی کارروائی ہوگی جس کا درد ان کے دل کو پہنچے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان سے جنگ نہیں کرنا چاہتے لیکن فوج کی کارروائی انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ جنوبی وزیرستان میں میں قبائل اور حکومت کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا کیا ہوگا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ فوج اور ان کے ترجمان شوکت سلطان کے ہاتھ میں ہے۔ ’ہم پاکستان کے خلاف لڑنا نہیں چاہتے۔ اس میں نہ ہمارا نہ پاکستان کا فائدہ ہے صرف امریکہ کا ہے جو ہمیں آپس میں لڑانا چاہتا ہے‘۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا تھا کہ فوج نے منگل کو جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جنوبی وزیرستان کے ہمزوالہ گڑیوم کے علاقے میں یہ کارروائی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقام پر موجود متعدد مقامی اور غیر ملکی جنگجو مارے گئے تھے۔

تاہم بیت اللہ کا دعوی تھا کہ مارے جانے والے بچے اور مزدور تھے۔ ’ہم ذرائع ابلاغ کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور خود دیکھ کر فیصلہ کریں یہاں کون لوگ ہیں۔ ہمیں ان کا جو بھی فیصلہ ہوگا قبول ہوگا۔‘

بیت اللہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ گزشتہ دنوں پاک افغان سرحد پر صوبے پکتیکا میں پاکستان اور اتحادی افواج کی مشترکہ کارروائی میں ان کے چھبیس افراد مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک بات جہاد کی ہے تو وہ اسے جاری رکھیں گے۔ ہم وہ کام کریں گے جس سے اسلام کو فائدہ ہو۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ افغانستان میں جاری لڑائی پاکستان یا افغانستان کا مسلہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ مذہب میں کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ’ہماری پالیسی کے مطابق سب سے پہلے اسلام اس کے بعد پاکستان۔‘

اگرچہ بیت اللہ محسود نے حکومت سے امن معاہدے کے خاتمے کا اعلان تو نہیں کیا لیکن ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے اور حکومت کے درمیان تعلقات ایک مرتبہ پھر تناؤ کا شکار ہوگئے ہیں۔

باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
بیت اللہ محسود’فوج نکل جائے‘
قبائلی جنگجو بیت اللہ محسود کا انٹرویو
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد