وزیرستان حملہ، خاصہ دار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کی سہ پہر میرعلی کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک خاصہ دار ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں پانچ ستمبر کو حکومت اور مقامی قبائلیوں کے درمیان امن معاہدے کے بعد یہ کسی اعلٰی سرکاری اہلکار پر فائرنگ کا پہلا واقعہ ہے۔ میران شاہ سے موصول اطلاعات کے مطابق یہ حملہ شہر سے قریباً دس کلومیٹر دور بنوں روڈ پر ایشا چوکی کے قریب سہ پہر تین بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب نامعلوم حملہ آوروں نے میرعلی کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ احسان اللہ کی میران شاہ جا نے والی گاڑی پر فائرنگ کی۔ اس حملے میں ایک خاصہ دار ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے ہیں۔ قبائلی علاقوں کے لیے میڈیا انچارج شاہ زمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی۔ ان کا دعوٰی تھا کہ اے پی اے حملے کے وقت گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ تاحال کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم حکام کے مطابق واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور فی الحال کسی گروہ یا فرد کو دمہدار ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا۔ | اسی بارے میں کمزوریاں دور کریں: اورکزئی22 December, 2006 | پاکستان افغان پاک تو تو میں میں16 December, 2006 | پاکستان ’طالبان کوئی ٹیکس نہیں لیتے‘11 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||