BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 17:29 GMT 22:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پنجابی طالبان کون؟‘

طالبان(فائل فوٹو)
غیر ملکی اور مقامی جنگجو ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بند ہو گئے
وزیرستان میں جنگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی ہے لیکن اس کے اسباب، محرکات اور کردار ماضی میں ہونے والی جنگوں سے قطعی مختلف نظر آتے ہیں۔

اس ہفتہ شروع ہونے والی جھڑپیں، جن میں سرکاری اہلکاروں کے مطابق اب تک تیس کے قریب جنگجو مارے جا چکے ہیں ، مبینہ طور پر ازبک اور مقامی جنگجوؤں کے بیچ ہوئی ہیں۔

علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ازبک جنگجو اپنے لیڈر طاہر یلداشوف کی قیادت میں لڑ رہے ہیں جبکہ مقامی قبائلی جنگجوؤں کی قیادت ایک نیا گروہ کر رہا ہے جسے مقامی لوگ’پنجابی طالبان‘ کہہ رہے ہیں۔

ازبک جنگجوؤں کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودگی کا ذکر تو کافی دیر سے چل رہا ہے اور اس سے پہلے بھی ان کی مقامی لوگوں سے جھڑپوں کی خبریں آتی رہی ہیں لیکن پنجابی مجاہدین کا ذکر پہلی بار منظر عام پر آ رہا ہے۔

عربی کمانڈر کا قتل
مشہور عربی کمانڈر شیخ اسداللہ کو اعظم ورسک کے علاقے میں قتل کر دیا گیا۔ شیخ اسداللہ نے 2002 میں شیخ عبدالرحمٰن کی ایک فوجی ایکشن میں ہلاکت کے بعد وزیرستان میں عربی جنگجوؤں کی کمان سنبھالی تھی۔

لگ بھگ دو ماہ قبل جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے یہ اطلاعات ملنا شروع ہوئیں کہ وہاں پنجاب اور پاکستان کے دوسرے علاقوں سے جنگجوؤں کے چھوٹے چھوٹے گروہ آ کر بسنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد اطلاعات ملیں کہ ان لوگوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ گئی اور مقامی لوگوں نے ان کا نام پنجابی مجاہدین رکھ دیا ہے۔

اس وقت تک ازبک جنگجوؤں کی مقامی قبائلیوں سے جھگڑوں کی خبریں عام ہو چکی تھیں لیکن ان کی ازبک جنگجؤوں کے ساتھ جھگڑوں کی کوئی واضح مثال سامنے نہیں آئی تھی۔

تقریباً ایک ہفتہ قبل جنوبی وزیرستان سے اطلاع ملی کہ پیر باغ کے علاقے سے دو عربی جنگجوؤں کی سر کٹی لاشیں ملی ہیں جس سے پورے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔ ہر طرف سرگوشیاں ہونے لگیں کہ یہ قتل ازبک جنگجوؤں نے کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عربی جنگجوؤں کے قتل کے بعد غیر ملکی اور مقامی جنگجوؤں نے وانا کے اردگرد کی پہاڑیوں میں ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بندی شروع کر دی۔

غیر ملکی جنگجوؤں میں زیادہ تر ازبک تھے لیکن انھیں چند مقامی قبائلی گروہوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ دوسری جانب مقامی جنگجوؤں میں ایک بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی تھی جنہیں علاقے میں پنجابی مجاہدین کہا جا رہا ہے۔

عربی جنگجوؤں کی لاشیں
ایک ہفتہ قبل جنوبی وزیرستان سے اطلاع ملی کہ پیر باغ کے علاقے سے دو عربی جنگجوؤں کی سر کٹی لاشیں ملی ہیں جس سے پورے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔ ہر طرف سرگوشیاں ہونے لگیں کہ یہ قتل ازبک جنگجوؤں نے کیے ہیں۔

پھر سننے میں آیا کہ غیرملکی اعظم ورسک اور کلوشہ کے علاقے میں مورچہ بند ہو گئے ہیں جبکہ پنجابی جنگجوؤں کے نام سے جانے والا گروہ دزاغندائی اور شین ورسک کے علاقے میں ہتھیار بند ہو گیا ہے۔

اس دوران یہ اطلاعات بھی آ رہی تھیں کہ ایک مقامی جرگے نے ازبک لیڈر طاہر یلداشوف سے ملاقات کی لیکن انہوں نے جرگے کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی کی درخواست ٹھکرا دی۔

اتوار کی رات کو ایک اور قتل کی خبر اس انتہائی کشیدہ صورتحال کو اس مقام پر لے گئی جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔ مشہور عربی کمانڈر شیخ اسداللہ کو اعظم ورسک کے علاقے میں قتل کر دیا گیا۔ شیخ اسداللہ نے 2002 میں شیخ عبدالرحمٰن کی ایک فوجی ایکشن میں ہلاکت کے بعد وزیرستان میں عربی جنگجوؤں کی کمان سنبھالی تھی۔

اگلے ہی دن دونوں طرف کے نظر بند جنگجو ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے اور اگر پاکستان کے فوجی ترجمان جنرل وحید کی اطلاعات درست ہیں تو اس جنگ میں اب تک دونوں طرف سے تیس کے قریب فریقین ہلاک ہو چکے ہیں۔

آخری خبریں آنے تک جنگجو کمانڈر بیت اللہ محسود اور سراج الدین حقانی کی اپیل پر دونوں فریق وقتی طور پر جنگ بندی پر رضامند ہو چکے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں کہ سکتا کہ نازک صورتحال پھر کب بھڑک اٹھے۔

لیکن سوموار کو ہونے والے واقعات نے بہت سے نئے سوال اٹھائے ہیں جن کے جواب کے بغیر وزیرستان کی تیزی سے بگڑتی صورتحال کو سمجھنا ناممکن ہے۔ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ پنجابی جنگجو کون ہیں اور یہ اتنی آسانی سے ایک ایسے علاقے میں کیسے جا بسے جہاں فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں۔

لعل خانوانا ایک ویرانہ
وزیرستان میں اب کوئی بولنے کو تیار نہیں ہے
جرگہمذاکرات شروع
وزیرستان: جرگے کو درپیش مسائل
زندگی کی چہل پہل
شمالی وزیرستان میں زندگی معمول پر آرہی ہے
وزیرستانطالبان سے معاہدہ
وزیرستان خطے میں امن فارمولوں کی تجربہ گاہ
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
ہارون رشیددورۂ جنوبی وزیرستان
فورسز کے حملے کا نشانہ بننے والے علاقے کا دورہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد