BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 March, 2007, 10:17 GMT 15:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیت اللہ محسود کے ساتھی گرفتار؟

حکیم اللہ
حکیم اللہ کو بیت اللہ کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان بیت اللہ محسود کے ایک قریبی ساتھی کو افغانستان میں نیٹو افواج نے گرفتار کر لیا ہے۔

تاہم اس خبر کی ابھی تک نہ تو پاکستان میں اور نہ ہی افغانستان میں حکام نے تصدیق کی ہے۔ قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان بھی اس کی تصدیق نہیں کر رہے ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھی حکیم اللہ محسود کو افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیا سےملحقہ علاقے سے گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔

انہیں نیٹو فورسز نے حراست میں لے کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان ازمری بشیری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس گرفتاری سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم نیٹو نے وہاں ایک کارروائی کی تھی جس کے بارے میں معلومات صرف وہ ہی دے سکتے ہیں۔

کابل میں نیٹو فورسز کے پریس آفس سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے اس کے بارے میں جلد معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے تاہم ابھی تک اس بارے میں ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان کے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق نیٹو فورسز نے یہ کارروائی پاکستان کے اندر شمالی وزیرستان کے لواڑا منڈی کے سرحدی علاقے میں کی۔تاہم پاکستانی حکام نے کسی ایسی سرحدی خلاف ورزی کی تردید کی ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں کسی سرحدی خلاف ورزی کی اطلاع نہیں ہے۔

حکیم اللہ کی گرفتاری کی خبر اگر درست ہے تو یہ بیت اللہ گروپ کے لیے ایک شدید دھچکا ہوگا۔حکیم اللہ محسود کو بیت اللہ کے قریبی ساتھیوں میں سے بتایا جاتا ہے۔

اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نیٹو اور افغان فوجیوں نے موسم بہار کی آمد پر شدت پسندوں کی جانب سے سرحد پار کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے نگرانی میں اضافہ کیا ہوا ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے جاسوسی کے طیاروں کی پروازوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
طالبان کے ساتھ وہ دن
25 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد