خودکش حملوں میں ملوث نہیں: محسود | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود نے تردید کی ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ خود کش حملوں کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے۔ جنوبی وزیرستان میں جمعرات کو قبائلی عمائدین کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں اپنے ہی ملک کے خلاف جنگ نہیں لڑنا چاہتا، میں ان خود کش حملوں کی مذمت کرتا ہوں، میں ان میں ملوث نہیں ہوں‘۔ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران دارالحکومت اسلام آباد سمیت کئی علاقوں میں ہونے والے تقریباً نصف درجن خود کش حملوں نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان حملوں میں زیادہ تر سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور کوئی تیس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستانی خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ حال ہی میں ہونے والے خودکش حملوں میں سے بعض کے پیچھے بیت اللہ محسود کا ہاتھ ہے، جو سولہ جنوری کو وزیرستان کے ایک دور افتادہ مقام زمزولہ پر پاکستانی افواج کی طرف سے کیے جانے والے حملے کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔
بیت اللہ محسود سے ملاقات کرنے والے قبائلی وفد کے سرکردہ رہنماء اور رکن پارلیمان مولانا محمد صالح شاہ کا کہنا ہے کہ زمزولہ کے واقعہ کے بعد (بیت اللہ) محسود نے جو کچھ کہا وہ محض ’وقتی غصہ‘ تھا۔ فوج کا کہنا تھا کہ زمزولہ میں حملے کا ہدف غیر ملکی ’دہشت گرد‘ تھے، لیکن بیت اللہ محسود نے الزام لگایا تھا کہ حکومت نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’اگر حکومت کو شک تھا کہ وہاں غیر ملکی موجود ہیں تو حملہ کرنے کی بجائے اسے قبائلی رہنماؤں کے ذریعے مجھ سے رابطہ کرنا چاہیے تھا‘۔ زمزولہ میں پاکستانی فوج کے حملے میں تقریباً بیس لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ بیت اللہ محسود نے اس واقعہ کے بعد مبینہ طور بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ بیت اللہ محسود طالبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں میں سب سے اہم خیال کیے جاتے ہیں، جو اکثر و بیشتر سرحد عبور کر کے افغانستان میں جاری ’مزاحمت‘ میں حصہ لیتے ہیں۔
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کا خاتمہ کرنے کے لیے ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد مشرف حکومت نے ’مقامی طالبان‘ کہے جانے والے عناصر کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا تا کہ لڑائی کو روکا جا سکے۔ وزیرستان میں سرکاری فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے، جن میں سات سو کے لگ بھگ فوجی بھی شامل ہیں۔ پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ سے بات کرتے ہوئے مولانا محمد صالح شاہ کا کہنا تھا کہ بیت اللہ محسود نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے ان بیانات پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا جس میں ان کو کو قتل کر نے کی دھمکی دی گئی تھی۔ سینٹر صالح شاہ کا کہنا تھا کہ بیت اللہ محسود اب بھی حکومت کے ساتھ امن چاہتے ہیں، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ فوج کے ساتھ لڑنا ان کے مشن کا حصہ نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں ’امریکہ کے لیے جاسوسی‘: دو قتل06 February, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان: تین اہلکار ہلاک01 February, 2007 | پاکستان وزیرستان آپریشن، فضائیہ کا استعمال19 January, 2007 | پاکستان ’ہم انتقامی کارروائی کریں گے‘17 January, 2007 | پاکستان وزیرستان: متعدد شدت پسند ہلاک16 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||