شمالی وزیرستان: تین اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے تین حکومتی اہلکاروں کو ہلاک جبکہ تین کو زخمی کردیا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح گیارہ بجے حکومتی محکمے سی این ڈبلیو کے اہلکار میران شاہ سے میرعلی کی طرف جارہے تھے کہ نورک کے مقام پر کالی شیشوں کی سفید گاڑی نے ان پر فائرنگ۔ اس فائرنگ میں میں سب انجنیئرعنایت اللہ، روڈ انسپکٹر حضرت خان اورسکیورٹی گارڈ نیک مت موقع پر ہلاک جبکہ تین سکورٹی گارڈ زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے حملے کی فوری وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی کسی نے ابھی تک اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس واقعہ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ شمالی وزیرستان میں اس سال کے دوران حکومتی اہلکاروں کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ گزشتہ سال پانچ ستمبر کو حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہواتھا۔ اس معاہدے میں ’ٹارگٹ کلنگ‘ پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اب تک وزیرستان میں ڈیڑھ سو سے زائد قبائلی سردار اور صحافی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں ’پاکستان ظلم کرے گا تو معاہدہ ختم‘31 October, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: ’مخبر‘ عالم کا قتل19 November, 2006 | پاکستان غیرملکیوں کو جانا ہوگا: مشرف06 January, 2007 | پاکستان وزیرستان: متعدد شدت پسند ہلاک؟16 January, 2007 | پاکستان وزیرستان: متعدد شدت پسند ہلاک16 January, 2007 | پاکستان ’بیٹا مارا گیا، انہوں نے بس بہت ظلم کیا‘20 January, 2007 | پاکستان امریکی فائرنگ، پاکستانی ہلاک22 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||