شمالی وزیرستان: ’مخبر‘ عالم کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک افغان عالم دین کو نامعلوم افراد نے امریکی فوج کےلیئے جاسوسی کے مبینہ الزام میں قتل کردیا ہے۔ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکام کوسنیچر کی رات رزمک کے علاقے فتح کوٹ سے ایک لاش ملی ہے جس کے سر میں دو گولیاں ماری گئی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ لاش کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں مقتول کا نام مولانا محمد ہاشم بتایا گیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں علاقے میں امریکیوں کے لیے مخبری کرنے کے الزامات میں ہلاک کیا گیا ہے۔ خط کے مطابق محمد ہاشم کو جنوبی وزیرستان کے علاقے شوال سے تعلق رکھنے والے ایک اور عالم دین مولوی صلاح الدین کا دوست بتایا گیا ہے جنہیں کچھ عرصہ قبل امریکیوں کے لیے جاسوسی کے الزام میں قتل کیا گیا تھا۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکیوں کے لیئے جو جاسوسی کرے گا ان کا یہی انجام ہوگا۔ میران شاہ میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول عالم دین ایک افغان مہاجر تھے تاہم ان کے بارے میں مزید معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کا تعلق افغانستان کے کس علاقے سے ہے۔ ذرائع کے مطابق مقتول کی لاش میرعلی سب ڈویژن کے گاؤں مسکی پہنچائی دی گئی ہے۔ واضع رہے کہ دوماہ قبل شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان اور حکومت کے مابین ایک امن معاہدہ عمل میں آیا تھا جس کے تحت فریقین نے علاقے میں ’ ٹارگٹ کلنگ‘ کے خاتمے پر اتفاق کرلیا تھا۔ تاہم اس معاہدے کے بعد سے علاقے میں اب تک کم ازکم چار افراد کونا معلوم افراد کی جانب سے مخبری کے الزامات میں ہلاک کیا جاچکا ہے۔ | اسی بارے میں شمالی وزیرستان: ’مخبر‘ عالم کا قتل03 November, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: دو فوجی ہلاک27 July, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان، ایک فوجی ہلاک17 May, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: تحصیلدار کا اغوا 05 November, 2006 | پاکستان میران شاہ: اہلکار سمیت چار ہلاک23 April, 2006 | پاکستان میران شاہ میں دو افراد کے سر قلم30 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||