شمالی وزیرستان: تحصیلدار کا اغوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک تحصیلدار کو اغوا کر لیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی شام اس وقت پیش آیا جب تقریباً پچاس سالہ فیض اللہ میر علی سے بنوں ایک مسافر گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔ راستے میں فقیر آف ایپی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی روک کر میر علی کے تحصیلدار کو اتارا اور سیاہ شیشوں والی گاڑی میں بیٹھا کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا۔ سفید داڑھی والے فیض اللہ کا تعلق بنوں سے بتایا جاتا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کی تلاش کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں حکومت کے حمایتی ملک ولی زار کو نامعلوم افراد نے وانا سے شکئی جاتے ہوئے نارے اوبہ کے مقام پر گاڑی سے اتار کر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ حملہ آور بعد میں فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ شمالی وزیرستان میں ہی نامعلوم افراد نے تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ افراد کبیر، گوانڈ اور مستری خان براستہ رزمک میران شاہ فلائنگ کوچ میں جا رہے تھے کہ راستے میں ڈنگین کے مقام پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہلاک ہونے والے تینوں کا تعلق مبینہ طور پر جرائم پیشہ طبقے سے بتایا جاتا ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امن معاہدوں کے بعد سے فوجی کارروائیاں تو تھم گئی ہیں تاہم عام لوگوں، قبائلی سرداروں اور اہلکاروں کی ہلاکت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ | اسی بارے میں شمالی وزیرستان: ’مخبر‘ عالم کا قتل03 November, 2006 | پاکستان جنڈولہ میں معروف حکیم قتل21 October, 2006 | پاکستان ’جاسوسی‘ کے شبہے میں قتل28 September, 2006 | پاکستان ’پاکستان ظلم کرے گا تو معاہدہ ختم‘31 October, 2006 | پاکستان وزیرستان امن معاہدہ خطرے میں01 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||