طالبان اور القاعدہ کا ایک نکاتی ایجنڈا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے میں طالبان اور القاعدہ کے جنگجو ایک بڑی قوت بن کر ابھرے ہیں۔جوبڑے مربوط انداز میں کارروائی کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر جنگجوؤں کو قریب سے دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ مختلف گروپ ہیں جن میں صرف ایک بات مشترکہ ہے وہ یہ کہ افغانستان سے مغربی فوجوں کے انخلا کا ایجنڈا۔ جمیعت العلماءاسلام سے تعلق رکھنے والے قبائلی مذہبی رہنما اس ایک ایجنڈا کو مختلف گروپوں کے لیے نظریاتی اتحاد کی علامت کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جنگجوگروپوں کے ان اختلافات کا حکومت پاکستان کوئی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتی یا وہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ایسے اختلافات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ شمالی وزیرستان کے اہم شہر میران شاہ کے دارالعلوم اشرافیہ کےدفتر میں جی یو آئی کے مولانا گل رمضان ایک اہم بات کی سفارش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ علماء اور قبائلی عمائدین اس بات پر متفق ہیں کہ وزیرستان میں ساری گاڑیوں کے رنگیں شیشے اتروائے جائیں گے۔ وہ تو یہ بات کہہ تو نہیں رہے لیکن علاقے میں سارے لوگ جانتے ہیں کہ میرانشاہ سے صرف بیس کلومیٹر دور میر علی میں مقیم القاعدہ کے جنگجو مولانا گل کے اس سفارش کی سخت مزاحمت کریں گے۔ یہ وہ ہی مولانا گل رمضان ہیں جنہوں نے جی یو آئی کے رہنما حافظ نوراللہ کے ساتھ مل کر حکومت پاکستان اور جنگجوؤں کے درمیاں ہونے والا امن معاہدہ لکھا تھا۔ ستمبر 2006 میں ہوئے امن معاہدے میں جنگجوؤں نے اپنے علاقوں میں پاکستانی فوج پر حملے نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ لیکن جنوبی وزیرستان کے علاقے زمہ زولا پر جنوری 2007 میں ہونے والے فضائی حملے کا بظاہر بدلہ لینے کے لیے میر علی میں پاکستانی فوج کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا۔جس میں تین فوجی مارے گئے۔ میرانشاہ میں اثر رکھنےوالے طالبان گروہ مانتے ہیں کہ یہ حملہ میر علی میں مقیم غیرملکی جنگجؤں نے کیا۔مقامی طالبان پر حکومتی دباؤ ہے کہ وہ ان کے خلاف قدم اٹھائیں۔ لیکن کیا گاڑیوں سے رنگین شیشے اتروانے سے مسائل حل ہوجائیں گے۔اس کے جواب میں مولانا گل رمضان بہت محتاط الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ مجاہدین کو نقصان پہنچانےکے لیے نہیں کیا گیا۔علاقے میں جرائم پیشہ افراد کی آزادانہ نقل و حرکت کی حوصلہ شکنی کی خاطر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کے پشاور میں موجود سیکریٹری جاویداقبال کھل کر کہتے ہیں کہ میر علی میں غیرملکیوں کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔اور لوگ انہیں علاقے سے نکالنا چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت فریقین کے موقف کے کہیں بیچ میں ہے۔ میرانشاہ میں کچھ طالبان گروپ اس اثرو رسوخ اور طاقت کو نا پسند کرتے ہیں جو میر علی میں القاعدہ کے جنگجؤ کے پاس ہے۔لیکن میر علی میں طالبان گروپ ان کے حامی بنے ہوئے ہیں۔ میر علی غیر ملکی جنگجوؤں کا گڑہ بنا ہوا ہے،جہاں وہ مقامی قبائلیوں جیسا لباس پہنتے ہیں اور صاف پشتو میں بات کرتے ہیں۔ ازبک شکل و صورت کے وسط ایشیائی جنگجوؤں کوتو دور سے ہی پہچانا جاسکتا ہے لیکن عرب، چیچن اور تاجک جنگجوؤں کو مقامی لوگوں سے الگ کرنا آسان نہیں۔ میر علی میں لوگ کہتے ہیں کہ شہر کے اہم طالبان جرگے کا سربراہ ابو اوکاش نامی عراقی بنا ہوا ہے۔ یہ لوگ وانا میں القاعدہ کی بڑی پناہ گاہ سے اہم شاہراہ کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔جو میرانشاہ کو بائی پاس کرتی ہوئی گزرتی ہے۔ اس شاہراہ کو طالبان کا وہ گروہ محفوظ بناتا ہے جو عرب جنگجوؤں کو دوستانہ نظر سے دیکھتا ہے۔اس گروہ کا سربراہ جنوبی وزیرستان کا طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود ہے۔ قوم پرست رہنما اور سیاسی تجزیہ نگار افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ اگر میر علی سے جنگجوؤں کا صفایا کرنے میں حکومت سنجیدہ ہے تو اسے قابل عمل حکمت عملی سے کام لینا ہوگا۔صرف مقامی لوگوں پر یہ کام نہیں چھوڑا جاسکتا۔ میر علی میں جن لوگوں کا انٹرویو کیا گیا ان کا کہنا تھا کہ غیرملکی جنگجوؤں نے مقامی لوگوں کو عمارتوں کے کرایہ کی پیشگی بہت بھاری رقم دے رکھی ہے۔جو واپس کرنا مقامی لوگوں کے لیے مشکل ہوگا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ غیرملکی جنگجو اپنے مخالفین کو ٹارگٹ بناکر بھی قتل کردیتے ہیں۔ حکومت پاکستان اور مقامی طالبان کے درمیاں نومبر دو ہزار چار میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد حکومت پاکستان نے وانا کے چار جنگجو کمانڈروں کو بتیس ملین روپے ادا کیے تھے تا کہ وہ القاعدہ کے جنگجوؤں کا قرضہ اتار سکیں۔ اس امن معاہدے کے دوران ایک سو پچاس مقامی لوگوں کو قتل کیا گیا اور کئی سو افراد سرحد صوبے کے شہروں کی طرف نقل مکانی کر گئے۔ مقامی گروپوں میں اختلافات کا نتیجہ مسلح جھڑپوں کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ شمالی وزیرستان سے جی یوآئی کے منتخب رکن اسمبلی مولوی نیک زمان کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال برطانوی فوج کے کام نہیں آسکا اور نہ ہی کسی دوسرے کے کام آئے گا اور مسئلےکا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ جنوبی وزیرستان کے محسود قبائلی علاقے میں چار گروپوں کے درمیاں علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے لے مسلح جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ سرحد صوبے کے ٹانک علاقے میں تین جنگجو گروپ ہیں جن کی ہمدردیاں وانا کے مختلف گروپوں محسود قبائل اور مقامی جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان بدلتی رہتی ہیں۔ مختلف گروہوں کے باہمی اختلافات کو حکومت پاکستان اپنے مفاد میں استعمال نہیں کرسکی ہے اور نہ ہی وہ افغانستان کی طالبان قیادت کو مقامی طالبان کے معاملات میں مداخلت سے روک سکا ہے۔ وانا کے علاقے میں گزشتہ سال نومبر میں مقامی طالبان سربراہ کا انتخاب کرنے میں ناکامی پر طالبان کے نوگروپ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طالبان گروپوں کے ان اختلافات کو مزید بڑھنے سے روکنے کےلیے جنوبی افغانستان کےریجنل کمانڈر ملا داد اللہ خود ثالثی کا کردار ادا کیا۔ | اسی بارے میں بیٹے کیلئے باپ پنجرے میں09.06.2003 | صفحۂ اول طالبان کا بھوت16.07.2003 | صفحۂ اول قبائلیوں اور طالبان کے رشتے07 October, 2003 | صفحۂ اول طالبان کارروائی: سات افراد ہلاک15 April, 2004 | صفحۂ اول مفرور طالبان لیڈر کو عمر قید کی سزا29 December, 2005 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||