مفرور طالبان لیڈر کو عمر قید کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ایک عدالت نے طالبان کے ایک مفرور کمانڈر کو ایک رکن پارلیمنٹ پر قاتلانہ حملے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ملاّ داد اللہ کو یہ سزا پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی ایک عدالت نے ان کے غیر موجودگی میں مقدمے کی تکمیل کے بعد سنائی ہے۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے وہ افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں۔ ملاّ داد اللہ پر الزام ہے کہ انہوں نے قدامت پسند سیاست داں مولانا محمد شیرانی کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں اس حملے سے کوئی نقصان نہ پہنچا۔ اس کے علاوہ تین افغانوں اور دو پاکستانیوں کو بھی سزائیں سنائی گئی ہیں جب کہ ایک ملزم کو رہا کر دیا گیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلم جے یو آئی کے رہنما مولانا شیرانی پر یہ حملے 18 نومبر 2004 کو اس وقت کیا گیا تھا جب وہ بلوچستان میں اپنے آبائی حلقے کی ایک سڑک پر سفر کر رہے تھے۔ ان کی کار پر راکٹ کے ذریعے ایک بم داغا گیا تھا۔ جے یو آئی اس چھ جماعتی اتحاد کا حصہ ہے جو جنرل صدر پرویز مشرف کا مخالف اور طالبان کا حامی خیال کیا جاتا ہے لیکن مولانا شیرانی جے یو آئی کا حصہ ہوتے ہوئے طالبان اور ان کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کہ کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتہ کہ ان پر حملہ کیوں کیا گیا۔مولانا شیرانی نے حملے کے بعد حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا ’میری سمجھ میں نہیں آتا کے ان بدنصیبوں نے یہ کام کیوں کیا۔ میری تو کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے‘۔ | اسی بارے میں عسکریت پسندوں سے معاہدہ 28 November, 2005 | پاکستان طالبان کی لاشیں جلانے کی تحقیقات 20 October, 2005 | پاکستان طالبان کے ترجمانِ اعلیٰ گرفتار04 October, 2005 | پاکستان غیر ملکی طلبہ کی واپسی کی اپیل 24 September, 2005 | پاکستان جاسوسی کے شبہ میں عورت کا قتل10 August, 2005 | پاکستان مشتبہ طالبان کی نعروں میں تدفین16 July, 2005 | پاکستان ’چوبیس طالبان ہلاک‘15 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||