طالبان کے ترجمانِ اعلیٰ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیکورٹی حکام نے پاکستان میں موجود طالبان کے اعلیٰ ترجمان مفتی لطیف اللہ حکیمی کو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ وزیرِ داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ طالبان کے ترجمانِ اعلیٰ کو پاکستان ہی سےگرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس گرفتاری سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائیں کہ انہیں کب، کیسے اور کہاں سے پکڑا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکیمی کے متعلق دیگر تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان کے ترجمان کے پاکستانی قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے ساتھ قریبی رابطے تھے۔ لطیف اللہ حکیمی ہی پاکستان میں موجود میڈیا کے تمام نمائندوں سے بات چیت کرتے تھے اور انہیں طالبان کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے تھے۔ اس ضمن میں وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ لطیف اللہ حکیمی سے پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیاں پوچھ گچھ کریں گی اور اس بات پر بعد میں سوچیں گے کہ انہیں افغانستان کی حکومت کے حوالے کیا جائے یا نہیں۔ وزیرِاطلاعات کا کہنا ہے کہ لطیف اللہ حکیمی کے ہمراہ ان کے کچھ ساتھی بھی گرفتار ہوئے ہیں لیکن اس کی تفصیلات بتانے سے انہوں نے گریز کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے ترجمان کی گرفتاری سے تفتیش کاروں کو اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الزواہری کے متعقلق نئی معلومات مل سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||