ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | وزیرستان میں تعینات فوجی |
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تین گاڑیوں میں اسلحہ پاکستان لانے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک فوجی اہلکار سمیت چار افراد ہلاک جبکہ دو فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ میران شاہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپ پاکستانی وقت کے مطابق دو پہر ڈیڑھ بجے کے قریب افغانستان کے ساتھ سرحد پر دوا توئی کے مقام پر ہوئی۔ یہ علاقے میران شاہ سے مغرب میں شوال کے دور دراز علاقے کے جانب واقع ہے۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب تین گاڑیوں میں سوار مشتبہ شدت پسندوں نے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ انہیں رکنے کو کہا گیا لیکن انہوں نے جواب میں گولی چلا دی۔ اس جھڑپ میں فوج کے ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر ہلاک جبکہ تین شدت پسند بھی مارے گئے۔ دو فوجی زخمی بھی ہوئے جبکہ باقی شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے میران شاہ لایا گیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق شدت پسند ان گاڑیوں میں اسلحہ پاکستان لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان سے طالبان اور القاعدہ کے ارکان کو پاکستان آنے سے روکنے کی خاطر اسی ہزار فوج قبائلی علاقوں میں تعینات کی ہے۔ یہ فوجی سرحد پر واقع ایک ہزار کے قریب چوکیوں پر سے سرحد کی نگرانی کرتے ہیں۔ مغربی ممالک خصوصاُ امریکہ نے موسم بہار کی آمد پر طالبان کے نئے حملے کے پیش نظر پاکستان پر سرحد پر نگرانی کڑی کرنے کے لیے سخت دباؤ بھی ڈالا ہوا ہے۔ |