BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 12:27 GMT 17:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان لڑائی، درجنوں ہلاک

وزیرستان لڑائی
فریقین ہلکے اور بھاری اسلحے کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ وانا کے مغرب میں مقامی اور غیرملکی شدت پسندوں کے درمیان پیر کی سہ پہر عارضی جنگ بندی کے بعد دوبارہ لڑائی چھڑ گئی ہے جس میں مرنے والوں کی تعداد پچاس سے زائد ہوگئی ہے۔

مرنے والوں میں اکثریت غیرملکیوں کی بتائی جاتی ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی سے رات گئے بات کرتے ہوئے چالیس سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مقامی ذرائع سے جو خبریں ملی ہیں ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت غیرملکیوں کی ہے جن میں زیادہ تر ازبک بتائے جاتے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق تین گھنٹے کی جنگ بندی کے دوران غیر ملکی عسکریت پسند علاقے سے اپنے اڑتیس ساتھیوں کی لاشیں اٹھانے میں کامیاب رہے۔ دوسرے فریق کے گیارہ افراد ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد سو سے زائد بتائی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق مقامی جنگجو اس لڑائی میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ جاوید، عباس اور نور اسلام نامی مقامی گروپ غیرملکیوں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ملا نذیر، میٹھا خان اور ملنگ کے گروپ ہیں۔ متحارب گروپوں نے ایک دوسرے کے کئی افراد کو یرغمال بنانے کا دعوٰی بھی کیا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں مقامی اور غیرملکی عسکریت پسندوں کے درمیان عارضی جنگ بندی تین گھنٹے سے زیادہ نہ چل سکی، لڑائی دوبار شروع ہوئی اور آخری اطلاعات تک رات گئے تک جاری رہی۔

لڑائی کی وجہ سے وانا کے بازار بند رہے

اطلاعات کے مطابق یہ تازہ جھڑپیں پیر کو صدر مقام وانا کے مغرب میں اعظم ورسک، شین ورسک، ژاغونڈیی اور کلوشہ کے مقامات پر شروع ہوئیں تھیں۔ ینی شاہدین کے مطابق فریقین اس لڑائی میں ہلکے اور بھاری اسلحے کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں۔

لڑائی کی وجہ سے اعظم ورسک اور وانا کے بازار مکمل طور پر بند رہے۔ علاقے سے ملنے والی خبروں کے مطابق شمالی وزیرستان سے ستر افراد پر مشتمل ایک جرگے نے جنگ بندی کی کوششیں شروع کر دی ہیں تاہم عارضی جنگ بندی کی ناکامی نے ان کا کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ان کوششوں کو تقویت دینے کے لیے ایک اور جرگہ جلد علاقے میں پہنچنے کی امید ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں اسی علاقے میں اسی طرح کی لڑائی میں سترا افراد جن میں اکثریت غیرملکیوں کی بتائی جاتی ہے ہلاک ہوئے تھے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی اور غیرملکی عسکریت پسندوں میں اختلافات کافی عرصے سے چلے آ رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد