وزیرستان لڑائی، درجنوں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ وانا کے مغرب میں مقامی اور غیرملکی شدت پسندوں کے درمیان پیر کی سہ پہر عارضی جنگ بندی کے بعد دوبارہ لڑائی چھڑ گئی ہے جس میں مرنے والوں کی تعداد پچاس سے زائد ہوگئی ہے۔ مرنے والوں میں اکثریت غیرملکیوں کی بتائی جاتی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی سے رات گئے بات کرتے ہوئے چالیس سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مقامی ذرائع سے جو خبریں ملی ہیں ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت غیرملکیوں کی ہے جن میں زیادہ تر ازبک بتائے جاتے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق تین گھنٹے کی جنگ بندی کے دوران غیر ملکی عسکریت پسند علاقے سے اپنے اڑتیس ساتھیوں کی لاشیں اٹھانے میں کامیاب رہے۔ دوسرے فریق کے گیارہ افراد ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد سو سے زائد بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی جنگجو اس لڑائی میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ جاوید، عباس اور نور اسلام نامی مقامی گروپ غیرملکیوں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ملا نذیر، میٹھا خان اور ملنگ کے گروپ ہیں۔ متحارب گروپوں نے ایک دوسرے کے کئی افراد کو یرغمال بنانے کا دعوٰی بھی کیا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں مقامی اور غیرملکی عسکریت پسندوں کے درمیان عارضی جنگ بندی تین گھنٹے سے زیادہ نہ چل سکی، لڑائی دوبار شروع ہوئی اور آخری اطلاعات تک رات گئے تک جاری رہی۔
اطلاعات کے مطابق یہ تازہ جھڑپیں پیر کو صدر مقام وانا کے مغرب میں اعظم ورسک، شین ورسک، ژاغونڈیی اور کلوشہ کے مقامات پر شروع ہوئیں تھیں۔ ینی شاہدین کے مطابق فریقین اس لڑائی میں ہلکے اور بھاری اسلحے کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں۔ لڑائی کی وجہ سے اعظم ورسک اور وانا کے بازار مکمل طور پر بند رہے۔ علاقے سے ملنے والی خبروں کے مطابق شمالی وزیرستان سے ستر افراد پر مشتمل ایک جرگے نے جنگ بندی کی کوششیں شروع کر دی ہیں تاہم عارضی جنگ بندی کی ناکامی نے ان کا کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ان کوششوں کو تقویت دینے کے لیے ایک اور جرگہ جلد علاقے میں پہنچنے کی امید ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں اسی علاقے میں اسی طرح کی لڑائی میں سترا افراد جن میں اکثریت غیرملکیوں کی بتائی جاتی ہے ہلاک ہوئے تھے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی اور غیرملکی عسکریت پسندوں میں اختلافات کافی عرصے سے چلے آ رہے تھے۔ | اسی بارے میں وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول پشاور:حجاموں کو دھمکی آمیز خط16 March, 2007 | پاکستان پاکستان پر بھی طالبان کے سائے06 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||