پشاور:حجاموں کو دھمکی آمیز خط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں کے بعد صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں بھی مقامی ہیئرڈریسروں اور سی ڈی سنٹروں کے مالکان کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں۔ یہ خطوط پشاور کے علاقے متنی میں مختلف مارکیٹوں کے مالکان کو بھیجےگئے ہیں جس میں سی ڈی سنٹروں کے مالکان اور مقامی حجاموں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر اندر اپنا کاروبار ختم کر دیں ورنہ ان کے دوکانوں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اردو زبان میں بھیجے گئے یہ خطوط سفید کاغذ پر تحریر کیےگئے ہیں اور ان پر کسی شخص یا تنظیم کا نام درج نہیں۔ خطوط میں مارکیٹوں کے مالکان کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی اپنی مارکیٹوں سے سی ڈی کا کاروبار کرنے والوں کو نکال دیں، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو مجبواً مارکیٹوں میں دھماکے کیے جائیں گے جس کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ ایک سی ڈی سنٹر کے مالک شاہنواز نے بتایا کہ خطوط کے بعد سنٹروں کے مالکان نے مقامی تھانہ اور علاقہ ناظم سے رابطہ کیا تاہم انتظامیہ کی طرف سے تاحال انہیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ متنی بازار میں واقع ایک سی ڈی سنٹر کے مالک نصیر زمان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ مذکورہ خطوط بازار میں قائم پندرہ سی ڈی سنٹروں کے مالکان کو ڈاک کے ذریعے موصول ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دھمکیوں کے بعد ایک سی ڈی سنٹر تو بند ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جو سی ڈی سنٹر بند ہوا ہے اسے مارکیٹ کے مالک کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ دوکان چھوڑ دے کیونکہ اگر کسی نے ان کی دوکان میں دھماکہ کیا تو اس صورت میں ان کی مارکیٹ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے‘۔
اسی قسم کے خطوط مقامی مو تراشوں کو بھی بھیجے گئے ہیں جس میں انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے شیو نہ بنائیں بصورت دیگر ان کی دوکانوں میں بھی دھماکے کیے جائیں گے جس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔اس سے قبل باجوڑ ایجنسی ، درہ آدم خیل اور لوئیر دیر میں بھی اس قسم کی دھمکی آمیز خطوط سی ڈی سنٹروں کے مالکان اور حجاموں کو بھیجی گئیں تھیں۔ ایک مو تراش عبد اللہ نے کہا ’یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنی دوکانوں میں شیو کرنا بند کر دیں کیونکہ اس سے ہمارا کاروبار ختم ہو جائے گا۔ یہ کوئی قبائلی علاقہ تو نہیں لہٰذا حکومت ہمیں تحفظ فراہم کرے‘۔ یونین کونسل متنی کے ناظم اسدخان کا کہنا ہے کہ خطوط پر کسی تنظیم یا شخص کا نام یا دستخط موجود نہیں جس سے لگتا ہے کہ کسی نے شرارت کی خاطر یہ کام کیا ہے جس کا مقصد علاقے میں خوف وہراس پھیلانا ہے۔انہوں نے کہا کہ متنی میں امن و امان کے حوالے سے سو افراد پر مشتمل ایک کمیٹی قائم ہے جس کا اجلاس جمعہ کے روز طلب کیا گیا ہے جس میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔ متنی پشاور شہر کے جنوب میں تقربناً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کی سرحدیں نیم خودمختار قبائلی علاقہ درہ آدم خیل سے ملحق ہیں اور یہ علاقہ اغواء برائے تاوان اور دیگر جرائم کے لیے بدنام ہے۔ | اسی بارے میں لوئیر دیر میں بھی شیو پر پابندی08 March, 2007 | پاکستان موسیقی، حجام کی دکانوں پر دھماکے04 March, 2007 | پاکستان درہ آدم خیل میں بھی شیو پر پابندی05 March, 2007 | پاکستان باجوڑ: گانے بجانے پر بھی ’پابندی‘25 February, 2007 | پاکستان باجوڑ میں شیو بنوانے والے مایوس14 February, 2007 | پاکستان باجوڑ: داڑھیاں اور شیو بنانے سے انکار11 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||