لوئیر دیر میں بھی شیو پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں کے بعد صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں بھی مقامی حجاموں اور ہیئر ڈریسروں نے شیو یا داڑھی منڈوانے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے جبکہ خلاف ورزی پر تین ہزار روپے جرمانےوصول کیا جائے گا۔ صوبہ سرحد کا شمالی ضلع لوئیر دیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز صدرمقام تیمرگرہ اور تحصیل منڈا میں نامعلوم افراد کی جانب سے پمفلٹ تقسیم کئے گئے ہیں جس میں مقامی حجاموں کو دھمکیاں دی گئی ہیں کہ وہ لوگوں کے شیو بنانے یا داڑھی منڈوانے سے باز رہیں بصورت دیر نتائج کے خود ذمہ دار ہونگے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان پمفلٹس کی تقسیم کے بعد بدھ کو ہئیر ڈریسروں نے تیمرگرہ اور منڈا بازار میں اپنی اپنی دکانوں پر بڑے بڑے اشتہارات لگائے ہیں جس میں داڑھی صاف کرنے پر پابندی کے الفاظ درج ہیں۔ حجاموں کی تنظیم نے خلاف ورزی کرنے والوں پر تین ہزار روپے جرمانہ لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی اور درہ آدم خیل میں بھی مقامی حجاموں نے سخت گیر عناصر کی طرف سے دباؤ کے باعث شیو کرنے پر پابندی لگانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ لوئیر دیر میں ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ منڈا کے علاقے میں ایک پمفلٹ مقامی مسجد کے امام مولانا صفیع اللہ کو دیا گیا تھا اور ساتھ میں ان کو دھمکی بھی دی گئی کہ وہ پمفلٹ مسجد میں نمازیوں کے سامنے پڑھ کر کر سنائیں ورنہ ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ ادھر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔ لوئیر دیر قبائلی علاقے باجوڑ کے ساتھ ملحق ہے ۔ لوئیر اور آپر دیر صوبہ سرحد کے دو الگ الگ شمالی اضلاع ہیں جو جماعت اسلامی کے گڑھ تصور کئے جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں باجوڑ: داڑھیاں اور شیو بنانے سے انکار11 February, 2007 | پاکستان باجوڑ: گانے بجانے پر بھی ’پابندی‘25 February, 2007 | پاکستان موسیقی، حجام کی دکانوں پر دھماکے04 March, 2007 | پاکستان درہ آدم خیل میں بھی شیو پر پابندی05 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||