BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 February, 2007, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: داڑھیاں اور شیو بنانے سے انکار

باجوڑ ایجنسی
مُو تراشوں کو خبردار بھی کیا گیا ہے کہ وہ شیو یا داڑھی بنانے کے گناہ میں شامل ہونے سے باز رہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مُو تراشوں (ہیئر ڈریسروں) نے نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیوں کے بعد لوگوں کی داڑھیاں اور شیو بنانے سے انکار کردیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سب سے بڑے تجارتی مرکز عنایت کلے میں گزشتہ روز مقامی مُو تراشوں کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں متفقہ طورپر فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ان کی دکانوں پر داڑھی مونڈی جائے گی اور نہ ہی شیو کیا جائے گا۔

عنایت کلے کے ایک مُو تراش عزت الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ فیصلے کے مطابق مُو تراشوں نے اپنی دوکانوں پر بورڈ بھی لگائے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ’شیو بنانے یا داڑھی مونڈنے پر مجبور نہ کیا جائے‘۔

باجوڑ کی پولیٹکل انتظامیہ نے علاقے میں پمفلٹس کی تقسیم کیے جانے کی تصدیق کردی ہے تاہم اس سلسلے میں مزید بات کرنے سے انکار کردیا۔

مقامی مُو تراشوں کا کہنا ہے دو دن پہلے نامعلوم افراد کی طرف سے ایک پمفلٹ جاری کیا گیا تھا جس میں مقامی مُو تراشوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ وہ لوگوں کے شیو یا داڑھی مونڈنا بند کردیں بصورت دیگر انہیں خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پشتو زبان میں جاری کیے گئے پمفلٹ میں داڑھی مونڈنا یا شیو بنانا کو سنت محمدی کے خلاف قرار دیا گیا ہے جبکہ مُو تراشوں کو خبردار بھی کیا گیا ہے کہ وہ اس گناہ میں شامل ہونے سے باز رہیں۔ ہاتھ سے لکھے گئے پمفلٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جحاموں (مُو تراشوں) کو آخری اطلاع دی جارہی ہے کہ وہ لوگوں کی شیو بنانا فوری طوپر بند کر دیں اورجو ایسا نہیں کرے گا اس کا جو بھی نقصان ہو گا اس کا وہ خود ذمہ دار ہوگا‘۔

پمفلٹ
پمفلٹ میں داڑھی مونڈنا یا شیو بنانا کو سنت محمدی کے خلاف قرار دیا گیا ہے

پمفلٹ سادہ سفید کاغذ پر ہاتھ سے تحریر کیا گیا ہے جس پر کسی کا نام یا دستخط موجود نہیں اور نہ ہی اس میں کسی تنظیم کا نام دیا گیا ہے۔

عنایت کلے کے مُو تراش عزت اللہ کا کہنا تھا کہ علاقے میں پندہ سے بیس مُو تراشوں کی دوکانیں قائم ہیں اور ان دھمکیوں کے بعد تمام مُو تراشوں نے آج سے دوکانوں پر بورڈ لگائے دیے ہیں جس میں لوگوں سے درخواست کی گئی ہیں کہ شیو یا داڑھی بنانے پر مجبور نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ روز سے علاقے میں سخت بارش ہو رہی ہے بازاروں میں بھی رش کم ہے تاہم مُو تراشوں کے فیصلے بعد شیو اور داڑھی بنوانے کے لیے تو ابھی تک کوئی ان کے پاس نہیں آیا ہے لیکن اگر عوام بورڈ دیکھیں گے تو امید ہیں کہ مجبور نہیں کرینگے‘۔

باجوڑ کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دھمکی آمیز خطوط ان لوگوں کی طرف سے جاری کیے جا رہے ہیں جو باجوڑ میں امن نہیں چاہتے۔

عنایت کلے باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ انارگئی چینہ سسے بھی قریب ہے جہاں گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں پاکستان فوج کی ایک کارروائی میں دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں حکام کے مطابق اسی سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد