’84 ازبک سمیت 110 افراد ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی اور غیرملکی عسکریت پسندوں کے درمیان تین روز کی لڑائی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک سو دس افراد جن میں چوراسی ازبک شامل ہیں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تراسی مقامی قبائلیوں کو پکڑا ہے۔ آخری اطلاعات تک لڑائی جاری تھی۔ جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک، شین ورسک اور کلوشہ کے مقامات پر گزشتہ تین روز کی لڑائی میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ فریقین راکٹوں اور مارٹر گولوں سے ایک دوسرے پر آخری اطلاعات تک حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔ تاہم فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے دو روز کے مقابلے میں اس کی شدت میں کل کچھ کمی آئی تھی۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کل رات گئے بی بی سی کو تازہ صورتحال بتاتے ہوئے کہا کے مجموعی طور پر ایک سو دس سے زائد لوگ جن میں چوراسی ازبک شامل ہیں ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں انسٹھ کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
انہوں نے تراسی غیرملکیوں کے پکڑے جانے کی بھی تصدیق کی۔ دوسری جانب ان کا کہنا تھا کہ سترہ قبائلی ہلاک جبکہ نو عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔ علاقے سے موصول اطلاعات کے مطابق غیرملکیوں نے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے تاہم اس پر ابھی مقامی قبائلیوں کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ علاقے میں کل تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے پہلے غیرمعینہ مدت کے لیے بند کر دیے گئے تھے۔ ادھر اس لڑائی کو رکوانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے سے جعمیت علمائے اسلام کا ایک وفد جبکہ شمالی وزیرستان سے قبائلی عمائدین کا ایک جرگہ جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ثالثی کی کوششوں کے لیے محسود جنگجووں کے سربراہ بیت اللہ محسود اور چند دیگر اعلی طالبان رہنماؤں کے بھی علاقے میں موجود ہونے کی خبریں ہیں۔ اس سے قبل اس ماہ کے اوائل میں بھی فریقین کے درمیان لڑائی کے بعد جنگ بندی ہوگئی تھی جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ ابھی واضح نہیں کہ نئی جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے بعد یہ کتنی مؤثر ثابت ہوگی۔ اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ وانا میں صورتِ حال پھر ابتر ہوگئی ہے اور منگل کی شام عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے سے متحارب گروپوں کے درمیان لڑائی ہوتی رہی ہے جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک چھیاسٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جھڑپوں کے بعد بدھ کی صبح پاکستانی فوج نے پیش قدمی کرتے ہوئے پہاڑی علاقوں میں پوزیشنیں سنبھال لی تھیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے انچاس کا تعلق ازبکستان سے تھا، تیرہ قبائلی جنگجو تھے جبکہ چار عام شہری تھے۔ اس سوال کے جواب میں کون کس سے لڑ رہا ہے، وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ مقامی قبائلی جن کی ہمدردیاں مقامی جنگجوؤں کے ساتھ ہیں وہ ازبک جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ قبائل اپنے اختلافات باہمی طور پر طے کریں۔انہیں نے مزید کہا کہ انہیں علاقے میں پاکستانی فوج کی پیشقدمی کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ منگل کی دوپہر فوج نے ازبک پوزیشنوں پر توپ خانے سے گولہ باری بھی کی۔ فوج کے شعبہ اطلاعات آئی ایس پی آر نے بھی جھڑپوں میں فوج کی کسی بھی طرح کی شمولیت کی تردید کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق وانا میں مقامی قبائیلیوں کے درمیان جھگڑا ہے جس میں فوج شامل نہیں ہے۔ سرکاری ٹیلیوژن کے مطابق تین دن کی جھڑپوں کے دوران ہلاک شدگان کی تعداد ایک سو پانچ ہوگئی ہے۔
عینی شاہدین کہتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ اس علاقے سے کم از کم پچیس لاشیں لائی گئیں جہاں جنگ ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ان لاشوں میں اکثریت ازبک جنگجوؤں کی تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوجی ہیلی کاپٹروں نے مقامی قبائل کی طرف سے لڑنے والے زخمیوں کو علاقے سے باہر نکالا۔ علاقے میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے غیرمعینہ مدت کے لیئے بند کر دیئے گئے ہیں۔ وانا کے قریب کڑی کوٹ کے علاقے میں ایک سکول پر غیرملکی جنگجوؤں کی جانب سے قبضے کی اطلاع ہے۔ یہ بھی اطلاعات کہ مطابق بیت اللہ محسود اور سراج الدین دونوں ہی علاقے میں موجود ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس لڑائی کو رکوانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے سے جعمیت علمائے اسلام کا ایک گیارہ رکنی وفد مولانا عین اللہ کی سربراہی میں مصالحت کے لیئے ٹانک سے وانا روانہ ہوا ہے۔ جرگے کے ایک رکن مولانا نیاز اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ قبائلی روایات کے تحت جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں ٹیلفون خراب ہونے کی وجہ سے ان کا بھی کوئی رابطہ نہیں ہے لہذا وہ وہاں کی صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔ تازہ جھڑپیں پیر کو صدر مقام وانا کے مغرب میں اعظم ورسک، شین ورسک، دژاغونڈئی اور کلوشہ کے مقامات پر شروع ہوئیں تھیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی سے کل رات گئے بات کرتے ہوئے چالیس سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔ |
اسی بارے میں وزیرستان لڑائی، درجنوں ہلاک20 March, 2007 | پاکستان وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول پشاور:حجاموں کو دھمکی آمیز خط16 March, 2007 | پاکستان پاکستان پر بھی طالبان کے سائے06 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||