BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 March, 2007, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی وزیرستان میں’جنگ بندی‘

طالبان
ازبک پوزیشنوں پر توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ثالثی کی کوششوں میں مصروف ایک جرگے کے رکن کا کہنا ہے کہ قبائلی عمائدین چار روز کی جھڑپوں کے بعد مقامی قبائلیوں اور غیرملکیوں کے درمیان جنگ بندی میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

تاہم پاکستان فوجی کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جنگ بندی سے متعلق ابھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

مصالحت کی غرض سے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا جانے والے جمعیت علمائے اسلام کے ایک جرگے کے رکن نیاز احمد قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جنگ بندی شمالی اور جنوبی وزیرستان کے قبائلی عمائدین کی کوششوں سے ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے وانا سے بتایا کہ یہ جنگ بندی جرگے کے حتمی فیصلے پر پہنچنے تک جاری رہے گی۔

تاہم ادھر وانا سے موصول اطلاعات کے مطابق جمعرات کی دوپہر تک مسلسل چوتھے روز بھی مقامی قبائلیوں اور غیرملکیوں کے درمیان اکا دکا مقامات پر جھڑپیں جاری رہیں۔ البتہ مقامی لوگوں کے مطابق گولہ باری میں اب کافی کمی آئی ہے۔

سرکاری اہلکار اب تک کی لڑائی میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو دس سے زائد بتا رہے ہیں جن میں ان کے بقول اکثریت غیرملکیوں کی ہے۔ تاہم وانا کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ یہ تعداد حقائق سے کافی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کل رات گئے بی بی سی کو تازہ تعداد بتاتے ہوئے کہا تھا کہ تراسی غیرملکیوں کو پکڑا بھی گیا تھا۔

جمعرات کو ایک تازہ واقعے میں ایک گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں چار غیرملکیوں سمیت چھ افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی قبائلیوں نے غیرملکیوں کو چاروں طرف سے محاصرے میں لے رکھا ہے۔

پہلی جنگ بندی زیادہ نہ چلی
 اس سے قبل اس ماہ کے اوائل میں بھی فریقین کے درمیان لڑائی کے بعد جنگ بندی ہوگئی تھی جو زیادہ عرصے نہ چل سکی

مقامی شدت پسندوں کے سربراہ مولوی نذیر کا کہنا ہے کہ غیرملکیوں کو مکمل طور پر غیرمسلح ہونے کے بعد پرامن زندگی گزارنے کے لیئے افغان پناہ گزینوں کی طرح کسی دوسرے مقام پر متبادل جگہ فراہم کی جا سکتی ہے۔

یہ جھڑپیں پیر کو صدر مقام وانا کے مغرب میں اعظم ورسک، شین ورسک، ژاغونڈئی اور کلوشہ کے مقامات پر شروع ہوئیں تھی۔

جنگ بندی کی کوششوں کے لیے جنوبی وزیرستان کے علاوہ شمالی وزیرستان سے بھی سینکڑوں کی تعداد میں عمائدین وانا پہنچے تھے۔ ان میں جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین، مولانا عبدالمالک کے علاوہ محسود جنگجوؤں کے سربراہ بیت اللہ بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔

اس سے قبل اس ماہ کے اوائل میں بھی فریقین کے درمیان لڑائی کے بعد جنگ بندی ہوگئی تھی جو زیادہ عرصے نہ چل سکی۔ ابھی واضع نہیں کہ نئی جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے بعد یہ کتنی موثر ثابت ہوگی۔

طالبان(فائل فوٹو)پنجابی طالبان کون؟
وزیرستان کے نئے جنگجو:عامر احمد خان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد