BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 April, 2007, 12:33 GMT 17:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن معاہدہ جاری رکھیں گے: طالبان

طالبان(فائل فوٹو)
طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت معاہدے کا پاس کرے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ملک و قوم کے مفاد میں حکومت کے ساتھ امن معاہدے کی پاسداری جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقامی شدت پسندوں کے ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی شوریٰ کا ایک اجلاس سنیچر کے روز تمام دن جاری رہا جس میں حکومت کے ساتھ گزشتہ ستمبر طے پانے والے امن معاہدے کو جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔

غلط فہمی
 سیدگئی میں ہی کل رات ایک فوجی چوکی پر حملے میں ان کے ملوث ہونے کے سوال کے بارے میں مقامی طالبان کے ترجمان نے اس کی نہ تو تصدیق کی اور نہ تردید۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ مقامی لوگوں کی جانب سے غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے۔
مقامی طالبان نے چند روز قبل شمالی وزیرستان کے سرحدی گاؤں سیدگئی میں ایک دھماکے میں تین افراد کی ہلاکت کے واقع کو فضائی بمباری قرار دیتے ہوئے اسے حکومت کی جانب سے امن معاہدے کی دوسری بڑی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ ان کے بقول پہلی خلاف ورزی افغانستان سے واپس آنے والے ایک قافلہ پر پاکستان فوج کا حملہ تھا۔

مقامی طالبان نے ان خلاف ورزیوں کے بعد حکومت پر معاہدہ توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے اس پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عبداللہ فرہاد کے مطابق شوریٰ نے قوم اور ملک کے مفاد کی خاطر اس معاہدے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم انہوں نے حکومت سے بھی اس معاہدے کے احترام کا مطالبہ کیا۔

شوریٰ نے امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے قائم دس رکنی امن کمیٹی کو بھی بعد میں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور انہیں حکومت پر معاہدے کے تحت عائد ہونے والی اپنی ذمہ داریاں جلد پوری کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔

ان ذمہ داریوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں عبد اللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ لڑائی کے دوران لوگوں کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کے ازالے میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

سیدگئی میں ہی کل رات ایک فوجی چوکی پر حملے میں ان کے ملوث ہونے کے سوال کے بارے میں مقامی طالبان کے ترجمان نے اس کی نہ تو تصدیق کی اور نہ تردید۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ مقامی لوگوں کی جانب سے غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے۔ سیدگئی میں ہلاکتوں کے بعد علاقے میں حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
فوجی کیمپ پر’راکٹ حملہ‘
28 April, 2007 | پاکستان
’جرگہ امن کی آخری کوشش ہے‘
12 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد