امن معاہدہ جاری رکھیں گے: طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ملک و قوم کے مفاد میں حکومت کے ساتھ امن معاہدے کی پاسداری جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی شدت پسندوں کے ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی شوریٰ کا ایک اجلاس سنیچر کے روز تمام دن جاری رہا جس میں حکومت کے ساتھ گزشتہ ستمبر طے پانے والے امن معاہدے کو جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
مقامی طالبان نے ان خلاف ورزیوں کے بعد حکومت پر معاہدہ توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے اس پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عبداللہ فرہاد کے مطابق شوریٰ نے قوم اور ملک کے مفاد کی خاطر اس معاہدے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم انہوں نے حکومت سے بھی اس معاہدے کے احترام کا مطالبہ کیا۔ شوریٰ نے امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے قائم دس رکنی امن کمیٹی کو بھی بعد میں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور انہیں حکومت پر معاہدے کے تحت عائد ہونے والی اپنی ذمہ داریاں جلد پوری کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ ان ذمہ داریوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں عبد اللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ لڑائی کے دوران لوگوں کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کے ازالے میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ سیدگئی میں ہی کل رات ایک فوجی چوکی پر حملے میں ان کے ملوث ہونے کے سوال کے بارے میں مقامی طالبان کے ترجمان نے اس کی نہ تو تصدیق کی اور نہ تردید۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ مقامی لوگوں کی جانب سے غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے۔ سیدگئی میں ہلاکتوں کے بعد علاقے میں حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں سیدگئی’حملہ‘، طالبان کی برہمی27 April, 2007 | پاکستان فوجی کیمپ پر’راکٹ حملہ‘28 April, 2007 | پاکستان ’شمالی وزیرستان: ایک فوجی ہلاک‘ 29 April, 2007 | پاکستان امن جرگے کی بیت اللہ سے ملاقات28 March, 2007 | پاکستان کرم ایجنیسی اور امن معاہدے19 April, 2007 | پاکستان ’جرگہ امن کی آخری کوشش ہے‘12 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||