فوجی کیمپ پر’راکٹ حملہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز ہونے والی ہلاکتوں کے چوبیس گھنٹے بعد ایک فوجی کیمپ پر راکٹ داغے گئے ہیں تاہم اس حملے سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب دو بجے میران شاہ میں واقع فوجی کیمپ پر مغرب کی جانب سے دو راکٹ فائر کیے گئے جو کیمپ سے تقریباً پانچ گز سو دور گرے۔ تاہم کو ششوں کے باوجود سرکاری سطح پر اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔گزشتہ رات کے راکٹ حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن طویل عرصے کے بعد یہ شمالی وزیرستان میں فوجی کیمپ پر حملے کا پہلا واقعہ ہے۔ فوجی کیمپ پر راکٹ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب جمعہ کو پاکستانی فو ج نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان کے گاؤں سیدگئی میں جمعرات اور جمعہ کی نصف شب کو ایک بم دھماکے میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے تاہم مقامی لوگوں نے دعوی کیا تھا کہ ہلاکتیں جنگی طیاروں کے حملے کے نتیجے میں ہوئی تھیں۔ اس واقعہ کے بعد شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر سرحدی گاؤں سیدگئی پر بقول ان کےگزشتہ شب جیسے حملے جاری رہے تو وہ حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر جلد نظرثانی کریں گے۔حکومت پاکستان نے گزشتہ سال ستمبر میں میران شاہ میں مقامی طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ پر دستخط کیے تھے جس کے بعد سے فوجی کارروائیاں تقریباً ختم ہوگئی تھیں۔
دریں اثناء صوبہ بلوچستان کے شہر ژوب میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے القاعدہ سے تعلق کے شبہہ میں ایک غیر ملکی کو گرفتار کیاہے۔ ضلع ژوب کے ناظم مولوی حبیب الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے غیر ملکی کا نام سلیمان ذکریا ہے اور انہیں سنیچر کی صبح قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے ژوب آتے ہوئے مغل کوٹ کے مقام پر گرفتار کر لیا گیا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والا غیر ملکی تین زبانوں عربی، انگریزی اور فارسی میں بات کر سکتا ہے۔تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کا تعلق کس ملک سے ہے۔ پاکستان کی وزارت داخلہ میں نیشنل کرائسز سیل کے سربراہ بریگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے بھی بی بی سی کے ساتھ گفتگو کر تے ہوئے ژوب میں ایک غیر ملکی کی گرفتاری کی تصدیق کی ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے شخص کے بارے میں ان کے پاس مکمل تفصیلات نہیں ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے شہر ژوب کی سرحد پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان اور افغانستان کے ساتھ ملتی ہے اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ژوب میں القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں کسی غیر ملکی کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں سیدگئی’حملہ‘، طالبان کی برہمی27 April, 2007 | پاکستان وزیرستان: دھماکے میں دو ہلاک27 April, 2007 | پاکستان وزیرستان جھڑپوں میں48 ہلاک04 April, 2007 | پاکستان وانا جھڑپوں میں حکومت سے اپیل05 April, 2007 | پاکستان جنوبی وزیرستان: کون کس کو مار رہا ہے07 April, 2007 | پاکستان ازبکوں کے خلاف قبائل کیوں اٹھ کھڑے ہوئے؟24 April, 2007 | پاکستان وانا میں سبزہ اور مستقبل کا سوال26 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||