BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 April, 2007, 11:28 GMT 16:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کیمپ پر’راکٹ حملہ‘

شمالی وزیرستان میں فوجی کیمپ
طویل عرصے کے بعد یہ شمالی وزیرستان میں فوجی کیمپ پر حملے کا پہلا واقعہ ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز ہونے والی ہلاکتوں کے چوبیس گھنٹے بعد ایک فوجی کیمپ پر راکٹ داغے گئے ہیں تاہم اس حملے سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب دو بجے میران شاہ میں واقع فوجی کیمپ پر مغرب کی جانب سے دو راکٹ فائر کیے گئے جو کیمپ سے تقریباً پانچ گز سو دور گرے۔

تاہم کو ششوں کے باوجود سرکاری سطح پر اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔گزشتہ رات کے راکٹ حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن طویل عرصے کے بعد یہ شمالی وزیرستان میں فوجی کیمپ پر حملے کا پہلا واقعہ ہے۔

فوجی کیمپ پر راکٹ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب جمعہ کو پاکستانی فو ج نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان کے گاؤں سیدگئی میں جمعرات اور جمعہ کی نصف شب کو ایک بم دھماکے میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے تاہم مقامی لوگوں نے دعوی کیا تھا کہ ہلاکتیں جنگی طیاروں کے حملے کے نتیجے میں ہوئی تھیں۔

اس واقعہ کے بعد شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر سرحدی گاؤں سیدگئی پر بقول ان کےگزشتہ شب جیسے حملے جاری رہے تو وہ حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر جلد نظرثانی کریں گے۔حکومت پاکستان نے گزشتہ سال ستمبر میں میران شاہ میں مقامی طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ پر دستخط کیے تھے جس کے بعد سے فوجی کارروائیاں تقریباً ختم ہوگئی تھیں۔

ژوب سے غیر ملکی گرفتار
 صوبہ بلوچستان کے شہر ژوب کی سرحد پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان اور افغانستان کے ساتھ ملتی ہے اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ژوب میں القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں کسی غیر ملکی کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

دریں اثناء صوبہ بلوچستان کے شہر ژوب میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے القاعدہ سے تعلق کے شبہہ میں ایک غیر ملکی کو گرفتار کیاہے۔ ضلع ژوب کے ناظم مولوی حبیب الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے غیر ملکی کا نام سلیمان ذکریا ہے اور انہیں سنیچر کی صبح قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے ژوب آتے ہوئے مغل کوٹ کے مقام پر گرفتار کر لیا گیا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والا غیر ملکی تین زبانوں عربی، انگریزی اور فارسی میں بات کر سکتا ہے۔تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کا تعلق کس ملک سے ہے۔

پاکستان کی وزارت داخلہ میں نیشنل کرائسز سیل کے سربراہ بریگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے بھی بی بی سی کے ساتھ گفتگو کر تے ہوئے ژوب میں ایک غیر ملکی کی گرفتاری کی تصدیق کی ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے شخص کے بارے میں ان کے پاس مکمل تفصیلات نہیں ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے شہر ژوب کی سرحد پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان اور افغانستان کے ساتھ ملتی ہے اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ژوب میں القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں کسی غیر ملکی کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد