BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 April, 2007, 16:22 GMT 21:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا میں سبزہ اور مستقبل کا سوال

وادی وانا
شاید وزیرستان کے معمے کے حل میں ابھی کافی وقت درکار ہے۔
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک سے جو خود گزشتہ دنوں شدت پسندی کی زد میں تھا وانا کے لیے روانہ ہوئے تو سڑک کنارے پولیس کے ایک بورڈ نے آنے والے سفر کے بارے میں تمام صورتحال واضع کر دی۔

’خدا حافظ
اللہ آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔
ٹانک پولیس‘

جنوبی وزیرستان کےدروازے یعنی جنڈولہ پہنچے تو مقامی طالبان کی ایک گاڑی لینے پہنچی۔ فوٹوگرافر نے پچھلی نشت پر بیٹھے ایک شخص کی تصویر بنانے کی کوشش کی تو اس نے ایسا کرنے سے روکتے ہوئے اردو میں کہا کہ ’میں سرکاری ملازم ہوں‘۔

موٹے شیشوں والی عینک پہنے اور کلاشنکوف اٹھائے اس شخص نے بعد میں پورے راستے اپنا چہرہ چادر میں چھپائے رکھا۔

لیکن اس غیر پشتون نے اپنی شناخت کے بارے میں ایک اشارہ ضرور دیا۔ اس شخص نے شاید یہ بھی واضع کر دیا کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ازبک شدت پسندوں کے خلاف اس علاقے میں لڑی جانے والی جنگ میں مقامی قبائل اور طالبان کو کس کی مدد حاصل ہے۔ حکومت پاکستان اور سکیورٹی فورسز کی ابتدا میں تردید اور بعد میں تصدیق نے رہے سہے شکوک و شبہات پہلے ہی دور کر دیے تھے۔

اس مرتبہ جنوبی وزیرستان بارشوں کی وجہ سے کچھ زیادہ دلکش، سرسبز اور سب سے اہم کچھ زیادہ ہی پرامن دکھائی دیا۔ اگرچہ اس بہتری میں زیادہ ہاتھ قدرت کا ہے لیکن کچھ کارروائی انسانوں نے بھی کی ہے۔ حالیہ بارشوں سے عموماً خشک پہاڑ زیادہ ہرے بھرے جبکہ ازبکوں کی غیر موجودگی میں علاقہ زیادہ پرامن محسوس ہوا۔

طالبان کی سفید پرچم والی گاڑی کی قیادت میں ہم وانا روانہ ہوئے تو آدھے راستے میں معلوم ہوا کہ ازبکوں اور مقامی قبائل کے درمیان لڑائی کی وجہ سے راستہ بند ہے۔ صحافیوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر اُن کے طالبان گائیڈ وہیں سے واپس لوٹ گئے۔ پریشانی کے اسی عالم میں معلوم ہوا کہ یہ طالبان ایک زخمی ازبک کو مخالف سمت میں جانے والی گاڑی سے پکڑنے کے لیے لوٹے تھے۔

ایک اضافی مسافر کے ساتھ یہ طالبان واپس لوٹے اور ہم نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا۔ وانا سے چند کلومیٹر قبل مچن بابا کے مقام پر ایک قبائلی لشکر کو وادی میں کارروائی کرتے دیکھا۔ لیکن ہمیں وہاں رکنے نہیں دیا گیا۔

وانا بازار کے شروع میں ہی قائم طالبان کے دفتر پہنچے جہاں پہلے ایک نجی ہسپتال تھا۔ سفید پرچم والے اس ہسپتال کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ بھی ازبک چلاتے تھے اور یہاں اپنے زخمیوں کا علاج کرتے تھے۔ دفتر کے سامنے ہی بیچ سڑک پر ایک اور سفید پرچم والی چوکی ہر آنے جانے والی گاڑی پر نظر رکھنے کے لیے تھی۔

بازار میں چہل پہل تھی اور کلاشنکوف بردار لوگ بھی کافی تعداد میں موجود تھے۔ ایک قبائلی سے بات کروائی گئی جسے ازبکوں کی مدد کے الزام میں لشکر نے پکڑا تھا۔ اس کے بال بھی بھدے انداز میں قینچی سے کاٹے گئے تھے۔

دفتر کے صدر دروازے کے باہر واپس لوٹنے والے لشکر کے لوگوں نے کامیاب کارروائی پر بندوقیں لہرا کر رقص کیا۔ اس کارروائی میں کل تین لوگ پکڑے گئے تھے۔ مقامی طالبان کے پاس سبز رنگ کی دو افغان پولیس کی گاڑیاں بھی دیکھیں۔ بتایا گیا کہ یہ پاکستان کے راستے افغانستان جانے والے کنٹینروں میں سے اڑائی گئی ہیں۔

سوالات
 کئی سوالات ساتھ لیے واپس لوٹ آیا۔ آخر یکایک ازبک کیسے ناپسندیدہ افراد میں تبدیل ہوگئے؟ طالبان کے تعینات کردہ ملا نذیر نے کیوں اپنے ماضی کے ساتھیوں کے خلاف ہتھیار اٹھایا؟ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کیا اتنی ہی تھی جتنی کہ حکومت اور ملا نذیر بتا رہے ہیں؟ آیا ازبک ہمیشہ کے لیے چلے گئے؟
وہاں سے ہمیں ازبکوں کے قید خانے کی سیر کے لیے لے جایا گیا۔ ایک قلعہ نما مکان میں قیدیوں کے ساتھ کیا کچھ ہوا ہوگا سوچ کر رونگٹے اٹھ کھڑے ہوئے۔

واپسی پر شین ورسک پہنچے تو ایک چوٹی پر قائم پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چوکی میں ایک مسلح طالب کو بھی بیٹھے دیکھا۔ اس قسم کا اتحاد پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا۔ لیکن سوال ذہن میں آیا کہ یہ اتحاد وقتی ہے یا مستقل؟

شین ورسک میں مجھے ایک مردہ ازبک کی لاش دکھانے بھی لے جایا گیا۔ منہ کے بل پڑی لاش کا تعین نہیں ہوسکتا تھا کہ کس کی ہے لیکن یہ بات واضع تھی کہ اسے دفنانے کی کوشش کسی نے بھی نہیں کی۔

شین ورسک ایک ایسا علاقہ تھا جہاں ازبکوں سے لڑائی کے خاتمے کے باوجود تناؤ موجود تھا۔ بڑی تعداد میں افراد کے وہاں پہنچنے سے ایک چوٹی پر موجود فوجی اپنی دوربینوں سے تعین کرنے کی کوشش میں لگے رہے کہ نیچے آنے والے ازبک ہیں یا کوئی اور۔

ان فوجیوں نے ان کی جانب کیمرے تانے ہوئے صحافیوں کو تلاشی کے لیے اوپر آنے کو کہا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں گولی چلانے کی دھمکی بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ازبک جنگجو بھی یا تو ہماری طرح شام یا پھر علی الصبح وہاں آتے اور حملہ کرتے تھے۔

ایک قبائلی شخصیت کے مکان پر رات بسر کی۔ اس دوران سب یہ سوچتے رہے کہ ملا نذیر احمد انہیں شرف ملاقات بخشیں گے یا نہیں۔ ان کے شک کی وجہ اس سے قبل ایک ایسے ہی صحافیوں کے وفد سے ملاقات سے ان کا انکار تھا۔

صبح ہی صبح ایک لمبا شخص پہلے ان کے کمرے میں آیا اور پھر باہر انتظار کرنے لگا۔ یہ خاموش طبیت کا آدمی ملا نذیر ہی تھا۔ ایک کندھے پر پستول لٹکائے، وہ کافی سنجیدہ شخص معلوم ہوا۔ ایسا لگا جیسے ان سے یہ اخباری کانفرنس زبردستی کروائی جا رہی ہے۔

بعد میں ملا نذیر سے ملاقات ہوئی آدھ گھنٹے کے سوال جواب کے دوران ملا نذیر کافی محتاط دکھائی دیئے۔ کوئی لمبی چوڑی بات نہیں، مختصر سے جوابات۔ افغانستان کی طالبان تحریک سے ان کے تعلق سے متعلق انہوں نے میرے ایک سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

جواب نہ ملنے کے سبب میں ملا نذیر سے متعلق کئی سوالات ساتھ لیے واپس لوٹ آیا۔ آخر یکایک ازبک کیسے ناپسندیدہ افراد میں تبدیل ہوگئے؟ طالبان کے تعینات کردہ ملا نذیر نے کیوں اپنے ماضی کے ساتھیوں کے خلاف ہتھیار اٹھایا؟ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کیا اتنی ہی تھی جتنی کہ حکومت اور ملا نذیر بتا رہے ہیں؟ آیا ازبک ہمیشہ کے لیے چلے گئے؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد