BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان افغانستان نہیں جارہے: فوج

افغانستان کا الزام ہے کہ پاکستان سے طالبان افغانستان میں داخل ہورہے ہیں
پاکستانی فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنوبی وزیرستان سے سرحد پار کر کے افغانستان شدت پسند کارروائیوں کے لیے جانے والوں کی نقل و حرکت بند کر دی ہے۔

جنوبی وزیرستان میں فوجی کمان کے سربراہ میجر جنرل گل محمد نے وانا میں صحافیوں کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ جنوبی وزیرستان اور افغانستان کے سرحد پار علاقے برمل کے درمیان اب کوئی باقاعدہ نقل و حرکت نہیں ہورہی ہے۔

غیرملکی اور مقامی صحافیوں کو اس بریفنگ کے لیے خصوصی طور پر پشاور سے وانا لے جایا گیا تھا۔ اس دورے کا اہتمام فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے کیا تھا۔

صحافیوں کو وانا سے قریبی ایک شولم نامی پہاڑی پر ایک فوجی چوکی پر لے جایا گیا جہاں سے پوری وادی وانا کو دیکھا جا سکتا تھا۔

جنرل گل کا کہنا تھا کہ اب کوئی نقل و حرکت سیاروں سے لی گئی تصاویر سے بھی ثابت نہیں کر سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام راستے بند کر دیے ہیں اور اب بڑی گروہ کی شکل میں سرحد پار نہیں کی جاسکتی۔

فوج کے ترجمان میجرل جنرل ارشد وحید کا کہنا تھا کہ آمد و رفت کو روکنے کے لیے سرحد پر بارہ کلومیٹر طویل باڑ نصب کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ باڑ کے علاوہ فوجی بھی اس کی نگرانی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری سامان کے پہنچنے کے بعد باڑ نصب کرنا شروع کی جائے گی۔

وانا کے مغرب میں اعظم ورسک کے علاقے میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مقامی شدت پسندوں اور قبائلیوں نے القاعدہ کے مبینہ غیرملکی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بڑا جانی نقصان پہنچایا اور باقی بچ جانے والوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔

فوجی اہلکاروں کے مطابق ان غیرملکیوں نے نندران کی پہاڑیوں میں پناہ لے لی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ قبائلی کل ایک جرگے میں ان کا پیچھا کرنے کے لیے ایک لشکر تشکیل دے سکتے ہیں۔

ماضی کے برعکس اس مرتبہ فوجی کافی پرسکون دکھائی دے رہے تھے۔ فوجی افسران کا کہنا تھا کہ مولوی نذیر مقامی طالبان کے سربراہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنے قبیلے کاکاخیل کے ایک فرد کی طرح اس لڑائی میں لڑے ہیں۔

طالبانایک نئی بحث
باڑ اور بارودی سرنگوں پر ملا جلا ردِعمل
حاجی عمرحاجی عمرکاانٹرویو
’غیر ملکی فوج کے انخلا تک لڑتے رہیں گے‘
’لاپتہ جہادی‘
ضلع دیر کے درجنوں ’مجاہد‘ لاپتہ
پاکستان اور طالبان
امریکی کانگریس میں پاکستان پر نیا بِل
ڈک چینیاسلام آباد پر دباؤ
ڈک چینی کا دورہ، پاکستان کی جھنجلاہٹ
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
طالبانطالبان کے ساتھ
ہارون رشید کا طالبان کے سات سفر کا قصہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد