سلمان خٹک وانا |  |
 | | | افغانستان کا الزام ہے کہ پاکستان سے طالبان افغانستان میں داخل ہورہے ہیں |
پاکستانی فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنوبی وزیرستان سے سرحد پار کر کے افغانستان شدت پسند کارروائیوں کے لیے جانے والوں کی نقل و حرکت بند کر دی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں فوجی کمان کے سربراہ میجر جنرل گل محمد نے وانا میں صحافیوں کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ جنوبی وزیرستان اور افغانستان کے سرحد پار علاقے برمل کے درمیان اب کوئی باقاعدہ نقل و حرکت نہیں ہورہی ہے۔ غیرملکی اور مقامی صحافیوں کو اس بریفنگ کے لیے خصوصی طور پر پشاور سے وانا لے جایا گیا تھا۔ اس دورے کا اہتمام فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے کیا تھا۔ صحافیوں کو وانا سے قریبی ایک شولم نامی پہاڑی پر ایک فوجی چوکی پر لے جایا گیا جہاں سے پوری وادی وانا کو دیکھا جا سکتا تھا۔ جنرل گل کا کہنا تھا کہ اب کوئی نقل و حرکت سیاروں سے لی گئی تصاویر سے بھی ثابت نہیں کر سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام راستے بند کر دیے ہیں اور اب بڑی گروہ کی شکل میں سرحد پار نہیں کی جاسکتی۔ فوج کے ترجمان میجرل جنرل ارشد وحید کا کہنا تھا کہ آمد و رفت کو روکنے کے لیے سرحد پر بارہ کلومیٹر طویل باڑ نصب کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ باڑ کے علاوہ فوجی بھی اس کی نگرانی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری سامان کے پہنچنے کے بعد باڑ نصب کرنا شروع کی جائے گی۔ وانا کے مغرب میں اعظم ورسک کے علاقے میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مقامی شدت پسندوں اور قبائلیوں نے القاعدہ کے مبینہ غیرملکی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بڑا جانی نقصان پہنچایا اور باقی بچ جانے والوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ فوجی اہلکاروں کے مطابق ان غیرملکیوں نے نندران کی پہاڑیوں میں پناہ لے لی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ قبائلی کل ایک جرگے میں ان کا پیچھا کرنے کے لیے ایک لشکر تشکیل دے سکتے ہیں۔ ماضی کے برعکس اس مرتبہ فوجی کافی پرسکون دکھائی دے رہے تھے۔ فوجی افسران کا کہنا تھا کہ مولوی نذیر مقامی طالبان کے سربراہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنے قبیلے کاکاخیل کے ایک فرد کی طرح اس لڑائی میں لڑے ہیں۔ |