وانا: بنیادی سہولتوں کا فقدان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جہاں امن عامہ کی غیریقینی صورتحال ایک مستقل درد سر ہے وہیں بجلی، ٹیلیفون اور سڑکوں کی ابتر حالت نے بھی ان کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ صدر مقام وانا میں جس سے ملاقات ہوئی اس نے امن عامہ کی خراب صورتحال کی بجائے ٹیلیفون اور بجلی نہ ہونے کا رونا زیادہ رویا۔ وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ ان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بجلی اور ٹیلیفون کی سہولتوں کا نہ ہونا ہے۔ ہر کوئی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ان مسائل کو خصوصی توجہ دینے کی اپیل کر رہا تھا۔ وانا کے باسیوں کا کہنا ہے کہ بجلی ایک ماہ میں چند راتوں کے لیئے ان لوگوں کے گھر مہمان ہوتی ہے جبکہ تین ماہ سے خراب ٹیلیفون کے بل صارفین کو آج بھی موصول ہو رہے ہیں۔ وانا کا ایک نوجوان رہائشی امان اللہ خصوصی طور پر صرف اس لیئے ملنے آیا کہ اپنی مشکل حکام بالا تک میڈیا کے ذریعے پہنچا سکے۔ اس کا کہنا تھا کہ ٹیلیفون نہ ہونے سے ان کی نہ صرف نجی زندگی بلکہ کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے یہ بل معاف کرنے کا مطالبہ کیا۔ وانا کا ٹیلیفون ایکسچینج اس سال جنوری میں خراب ہوا تھا تاہم تین ماہ کے دوران بھی اس کی مرمت کرکے اسے بحال نہیں کہا جاسکا ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ کٹا ہوا ہے۔
وانا میں ہزاروں کی تعداد میں خراب ٹیلیفون لائینوں کی وجہ سے ایک آدھ سٹلائیٹ پی سی او کھلا ہے۔ تاہم اس سے کال کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ مقامی آبادی نے اس مسئلے کی جانب حکام کی توجہ دلانے کی خاطر احتجاج بھی کیا تاہم کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی ہے۔ کئی نوجوان قبائلیوں نے موجودہ نظام کی بجائے علاقے میں موبائل فون سروس شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا تاہم بقول ان کے روز روز کی کِھچ کِھچ سے آزاد ہو جائیں۔ دوسری جانب بجلی کی فراہمی بھی مقامی لوگوں کے مطابق انیس سو اٹھانوے سے غیراطمینان بخش ہے۔ وانا کے رہائشی شاہ نور کا ایک بجلی کے کھمبے کی جانب اشارہ کرکے کہنا تھا کہ یہ صرف نام کے کھمبے ہیں بجلی کے لیئے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وولٹیج کی کمی ان کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ حکام نے وانا اور اس کے مضافات کو کئی علاقوں میں تقسیم کیا ہوا ہے جہاں مخصوص دنوں میں صرف رات کو بجلی دی جاتی ہے۔ بجلی نہ ہونے سے لوگوں کو پینے کے پانی کی کمی کا بھی مسئلہ درپیش ہے۔ ٹانک - وانا روڈ پر جو چھوٹا سا پل دو تین برس پہلے ٹوٹا تھا آج بھی نہ مکمل ہوسکا تاہم اس پر تعمیراتی کام آج کل جاری ہے۔ سڑکیں جگہ جگہ ٹوٹی ہیں جس سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی حکومت ہر سال قبائلی علاقوں کے لیئے ریکارڈ ترقیاتی بجٹ کے اعلانات تو کرتی رہتی ہے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی نظر آتے ہیں۔ البتہ قبائلی علاقوں کے لیئے سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ان علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ علاقے میں شدت پسندی کا جو آج کل دور دورہ ہے اس میں اگر ان لوگوں کو ان بنیادی سہولتوں سے بھی محروم رکھا گیا تو حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔ |
اسی بارے میں وزیرستان لڑائی، درجنوں ہلاک20 March, 2007 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں’جنگ بندی‘22 March, 2007 | پاکستان ’وزیرستان جھڑپیں جاری 52 ہلاک‘30 March, 2007 | پاکستان وزیرستان جھڑپوں میں48 ہلاک04 April, 2007 | پاکستان جنوبی وزیرستان: کون کس کو مار رہا ہے07 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||