جنوبی وزیرستان: کون کس کو مار رہا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان ایک مرتبہ پھر شورش کا شکار ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہاں مقامی قبائل نے ان غیر ملکی جنگجوؤں کو علاقے سے نکالنے کی غرض سے ایک مسلح جدو جہد کا آغاز کر دیا ہے جو سرحد سے پار افغانستان میں اتحادی فوجوں پر حملے کرتے ہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے علاقے میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران دو سو پچاس افراد مارے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر غیر ملکی تھے۔ اس کے برعکس غیر سرکاری ذرائع مرنے والوں کی تعداد بہت کم بتاتے ہیں اور ان کے مطابق یہ قبائل کے درمیان طاقت کی لڑائی ہے جس میں دونوں جانب سے غیر ملکی اور مقامی جنگجوؤں کے ملے جلے گروپ ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان دونوں دعؤوں کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔ صحافیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ موبائل فون بھی کام نہیں کرتے جبکہ دو ماہ قبل مقامی ٹیلیفون ایکسچینچ پر ڈاکے کے بعد عام ٹیلیفون بھی کام نہیں کر رہے۔ لیکن اگر آپ ٹرک والوں یا ان دوسروں لوگوں سے بات کریں جو اس عرصے میں علاقے میں جاتے آتے رہے ہیں تو لگتا ہے کہ مندرجہ بالا دونوں دعوے آدھے سچ ہو سکتے ہیں لیکن بات چیت میں جنوبی وزیرستان میں جاری تنازعے کا ایک تیسرا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔
جنوبی وزیرستان کے مغربی علاقے میں احمد زئی وزیر قبیلے کا اثرو رسوخ واضح ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان پرکشش تجارتی راستوں پر اس قبیلے کا کنٹرول ہے۔ احمد زئی وزیر قبیلے کے نو ذیلی قبیلوں میں سے سب سے بڑا ذالی خیل ہے جس کے کنٹرول میں علاقے کا صدر مقام وانا ہے۔ یہی وہ ذیلی قبیلہ بھی ہے جس کے پاس روایتی طور پر چھوٹے ذیلی قبیلوں کی قیادت بھی رہی ہے۔ ذالی خیل کے اندر بھی تین ذیلی گروپ ہیں جن میں سب سے بڑا یارگل خیل ہے جو کہ وہ گروپ ہے جس نے وانا کے علاقے میں غیر ملکیوں کو پناہ دی تھی۔ یارگل خیل نے طالبان کو کئی کمانڈر دیے ہیں جن میں خاص طور پر نیک محمد بھی شامل ہیں۔ نیک محمد دو ہزار تین اور دو ہزار چار کے درمیانی عرصے میں ہزاروں غیر ملکیوں کو وانا لائے اور مارچ دو ہزار چار میں انہوں نے علاقے میں پاکستانی فوج کو بہت بری شکست دی۔ نیک محمد دوہزار چار میں ہی ایک امریکی فضائی حملے میں مارے گئے جس کے بعد یارگل خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے باقی کمانڈروں نے اپنی اپنی اجارہ داری ثابت کرتے ہوئے طالبان کے الگ الگ دفتر قائم کر لیے۔ ان کمانڈروں میں نیک محمد کے بھائی حاجی عمر بھی شامل تھے۔ موجودہ تنازعے میں ہوا یہ کہ بکھر جانے والے یارگل خیل کمانڈروں میں سے کچھ ملا نذیر کے خلاف یکجا ہو گئے۔ ملا نذیر کو طالبان کی اعلیٰ قیادت نے امحد زئی وزیر قبیلہ کے سب سے بڑے کمانڈر کے طور پر تعینات کیا تھا۔
ہو سکتا ہے کہ یار گل خیل قبیلے کے لوگ اس فیصلے سے خوش نہیں کیونکہ ملا نذیر کا تعلق جس ذیلی قبیلے (کاکا خیل) سے ہے وہ یار گل خیلوں کا سب سے غیر اہم اور کمزور ذیلی قبیلہ ہے۔ جنوبی وزیرستان میں جاری لڑائی کا ایک سبب تو یہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ مفروضہ درست ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری لڑائی میں غیر ملکی کس کے ساتھ ہیں؟ حکومت کا کہنا ہے کہ مقامی قبائل تمام غیر ملکیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن وانا سے آنے والی اطلاعات سے لگتا ہے ملا نذیر کے جنگجو صرف ازبکوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وانا سے ملنے والے سرکاری اور غیر سرکاری اطلاعات میں کہیں بھی اصل القاعدہ یعنی عرب باشندوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔ عربوں کے علاوہ جن دیگر گروپوں کا ذکر بھی نہیں ہوتا ان میں چیچن، چینی انسل جنگجو اور وہ کشمیری اور پاکستانی فرقہ وارانہ گروپ بھی شامل ہیں جنہیں افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ’پنجابی‘مجاہدین کے نام سے جانا چاہتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ بھی مانا جاتا تھا کہ ازبک جنگجو آپس میں اختلافات کے بعد دو متحارب گروپوں میں بٹ چکے ہیں جن میں سے ایک کا ٹھکانہ وانا ہے اور اس کے سربراہ قاری طاہر یلداشیو جبکہ دوسرے کی قیادت میر علی کے ہاتھ میں ہے اور اس کا ٹھکانہ پڑوسی قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان ہے۔ اب حکومتی ذرائع یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وانا میں ازبکوں کا ایک تیسرا گروپ بھی جو کہ ’اچھے لوگ‘ ہیں اور وہ یلداشیو کے برے لوگوں کو علاقے سے نکالنے میں مقامی قبائل کی مدد کر رہے ہیں۔ ملا نذیر یہ الزام بھی لگا چکے ہیں یاداشیو کے لوگ گزشتہ دو برسوں میں دو سو سے زائد قبائلی عمائدین پر امریکی اور پاکستانی جاسوس کا الزام لگا کر انہیں مار چکے ہیں۔ زیادہ تر مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ صرف ازبکوں کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے لیکن کچھ حالیہ واقعات میں یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہ لوگ ان قبائلیوں کے لیے کرائے کے قاتلوں کا کام کرتے رہے ہیں جو اپنے دشمنوں کو ختم کرانا چاہتے تھے۔ یہ بات اس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب چھ مارچ کو چند ازبک جنگجؤوں نے اعظم ورسک کے علاقے میں ایک قبائلی رہنما کو مارنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں جھڑپ ہو گئی جس میں مبینہ طور پر انیس لوگ مارے گئے جن میں بارہ ازبک تھے۔ بیس مارچ کو ایک عرب جنگجو کے قتل پر ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ملا نذیر نے ان جھڑپوں کا ذمہ دار ازبک باشندوں کو ٹھہرایا۔
تب سے دونوں متحارب گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں جن میں دس فوجیوں سمیت تقریباً ایک سو افراد مارے جا چکے ہیں۔ ایک بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ ملا نذیر جیسا ایک کمزور قبائلی وہ کام کرنے میں کیسے کامیاب ہو سکتا ہے جسے طاقتور یارگل خیل کمانڈر نہ کر سکے؟ اس سوال کا جواب ہمیں جنوبی وزیرستان کی صورتحال کے تیسرے پہلو کی طرف لاتا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر کے آخری دنوں میں ایسے افراد کی ایک بڑی تعداد وانا کے علاقے میں پہنچا شروع ہو گئی تھی جو خود کو مجاہدین کے نام سے متعارف کراتے تھے لیکن انہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان لوگوں نے وانا کے گرد و نواح میں مکان کرائے پر لیے اور اس کے لیے فراخدلانہ رقوم دیں۔ کچھ ذرائع ان لوگوں کی تعداد دو ہزار بتاتے ہیں۔ شروع میں مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ یہ لوگ ترکمانستان سے ہیں لیکن اب کئی لوگوں کو شک ہے کہ ان کا تعلق پاکستانی فوج سے ہے۔ وانا میں ان نوواردوں نے ازبکوں کے ساتھ جھگڑے کیے اور تناؤ پیدا کیا جس کے نتیجے میں نومبر میں وانا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مختلف گروہوں میں کھلم کھلا لڑائی شروع ہو گئی۔ صورتحال اس وقت قدرے بہتر ہو گئی جب سرحد پار افغانستان سے طالبان کے سرکردہ رہنما علاقے میں آئے اور انہوں نے ملا نذیر کو احمد زئی وزیر کا چیف کمانڈر یا سربراہ تعینات کر دیا۔ تب سے وانا میں نئے آنے والے اور پنجابی طالبان دونوں زالی خیل اور یارگل خیل قبائل کے طاقتور کمانڈروں کے خلاف ملا نذیر کا ساتھ دے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ طالبان کے سرکردہ رہنما بھی ملا نذیر کو ازبکوں اور ان کے حامی قبائلیوں کے ساتھ جنگ بندی پر رضامند کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔
لگتا ہے کہ حکومت جنگجؤوں کے مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں کامیاب رہی ہے اور اس عمل میں ازبکوں کو علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ یہاں سے آگے کا راستہ دو سمتوں میں جاتا ہے۔ ایک تو یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اپنی کامیابیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگلے مرحلے میں عربوں اور دوسرے جنگجؤوں کو بھی توڑ دے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ حکومت ایسے ہی اقدامات شمالی وزیرستان میں موجود غیر ملکیوں اور ان کے حامی قبائل کے خلاف بھی کرے گی۔ لیکن حکومت اس راستے کا انتخاب صرف اسی صورت میں کرے گی اگر اس نے طالبان کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنے اور علاقے میں شدت پسندی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دوسرا راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ طالبان جنگجؤوں کو کوئی بڑا نقصان پہنچائے بغیر ’غیر ملکی جنگجؤوں‘ کی ہلاکتوں کا ڈھول پیٹ کر بین الاقوامی دباؤ کو کچھ وقت کے لیے پھر ٹال دیا جائے۔ ابھی تک تو اسلام آباد مغربی طاقتوں کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے دوسرے راستہ کو ہی فوقیت دیتا رہا ہے۔ کیا اس مرتبہ کچھ مختلف ہو گا؟ |
اسی بارے میں طالبان اور القاعدہ کا ایک نکاتی ایجنڈا09 March, 2007 | پاکستان بیت اللہ محسود کے ساتھی گرفتار؟09 March, 2007 | پاکستان تین شدت پسند، ایک فوجی ہلاک10 March, 2007 | پاکستان پاک افغان جرگہ کا اجلاس شروع12 March, 2007 | پاکستان وزیرستان: طالبان میں کشیدگی کم 12 March, 2007 | پاکستان طالبانائزیشن کی پہنچ پشاور تک؟18 March, 2007 | پاکستان وزیرستان لڑائی، درجنوں ہلاک20 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||