BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 April, 2007, 09:43 GMT 14:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان جھڑپوں میں48 ہلاک

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں وانا سکاؤٹس کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائل اور غیرملکیوں کے مابین تازہ جھڑپوں میں اڑتالیس 48 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک فوجی سمیت سکیورٹی فورسزز کے چار اہلکاروں کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ حسین زادہ خان نے صدر مقام وانا سے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ تازہ جھڑپیں بدھ کی صبح مقامی جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر کے حامیوں اور قبائلی لشکر کی طرف سے وانا کے علاقوں شین ورسک اور ژہ غنڈی میں غیر ملکیوں کے مورچوں پر حملوں کے بعد شروع ہوئی۔

حسین زادہ خان کے مطابق تاحال اڑتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وانا کے مغرب میں ژہ غنڈی کے علاقے میں پچیس جبکہ شین ورسک میں انیس غیر ملکی مارے گئے ہیں جبکہ جوابی حملے میں مولوی نذیر کے چار حامی بھی ہلاک اور نو زخمی ہوئےہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں وانا سکاؤٹس کے تین سپاہیوں کے علاوہ ایک فوجی اہلکار بھی مارا گیا ہے تاہم سرکاری طورپر اس سلسلے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا۔

لشکر نے شین ورسک اور ژہ غنڈی کے علاقوں میں غیر ملکیوں کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے جس کے چند گھنٹوں بعد لڑائی کلوشہ اور اعظم ورسک کے علاقوں تک پھیل گئی

منگل کو وانا میں احمد زئی وزیرقبائل کا ایک جرگہ امن کمیٹی کے سابق ممبر ملک شرین جان کی سربراہی میں منعقد ہوا تھا جس میں غیر ملکیوں کو علاقہ بدر کرنے کےلیے نو سو قبائلیوں کا مسلح لشکر تشکیل دیاگیا تھا۔

مقامی ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح لشکر نے کاروائی کرتے ہوئے شین ورسک اور ژہ غنڈی کے علاقوں میں غیر ملکیوں کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے جس کے چند گھنٹوں بعد لڑائی کلوشہ اور اعظم ورسک کے علاقوں تک پھیل گئی ۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی میں فریقین کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔

ادھر مولوی نذیر کے حامیوں نے وانا کے علاقے ژہ غنڈی پرقبضے کرنے اور چالیس غیر ملکیوں کو گرفتار کا دعوی کیا ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
آ
خری اطلاعات آنے تک قبائل اور غیر ملکیوں کے درمیان مابین کلوشہ ، ژہ غنڈی، اعظم ورسک اور سین ورسک کے علاقوں میں شدید لڑائی جاری تھی۔

واضح رہے کہ قبائل اور غیر ملکیوں کے مابین انیس مارچ سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں اب تک ڈھائی سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مقامی جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر نے ان غیرملکیوں کو غیر مسلح اور علاقہ بدر کرنے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے

جرگہمذاکرات شروع
وزیرستان: جرگے کو درپیش مسائل
 اسلحہ القاعدہ کو نکالو
شمالی وزیرستانیوں کو فوجی کارروائی کی دھمکی
وزیرستانطالبان سے معاہدہ
وزیرستان خطے میں امن فارمولوں کی تجربہ گاہ
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد