وزیرستان: مرنے والوں کی تعداد 18 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ روز مقامی قبائیلوں اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھارہ ہو گئی ہے جبکہ ایک قبائلی جرگے نے فریقین کے مابین عارضی جنگ بندی کرادی ہے۔ پشاور میں ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ روز شروع ہونے والی لڑائی میں اٹھارہ افراد مارے گئے جن میں پندرہ ازبک باشندے جبکہ تین مقامی قبائلی شامل ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کے ایک پندرہ رکنی جرگے نے فریقین کے مابین عارضی جنگ بندی کرادی ہے جس کے بعد علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ ادھر اعظم ورسک کا ٹیلی ایکسچینج خراب ہونے کی وجہ سے علاقے کا ملک سے رابط مکمل طورپر کٹ گیا ہے۔ وزیرستان کے قریب واقع صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لڑائی منگل کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریباً بارہ کلومیٹر دور اعظم ورسک کے علاقے میں اس وقت شروع ہوئی جب علاقے کے ایک سرکردہ قبائلی ملک سعید اللہ خان کے حامیوں اور ازبک باشندوں کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جس پر فریقین نے ایک دوسرے پر خودکارہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ بتایا گیا ہے کہ ملک سعید اللہ خان پر دو مرتبہ نامعلوم افراد کی طرف سے قاتلانہ حملے کئے جاچکے ہیں جس کا شک ازبک عسکریت پسندوں پر ظاہر کیا جارہا تھا۔ اعظم ورسک جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریباً بارہ کلومیٹر مغرب میں افغانستان جانے والی سڑک پر واقع ایک قصبہ ہے۔ اس علاقے میں غیرملکیوں اور مقامی قبائل کے درمیان کشیدگی کی یہ پہلی اطلاع ہے۔ اس سے قبل شمالی وزیرستان کے میر علی کے علاقے میں بھی مقامی قبائل اور غیرملکیوں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات ملی تھیں۔ | اسی بارے میں وانا: ازبکوں کی قید سے رہائی03 October, 2006 | پاکستان وانا: ازبک کی انتقامی کارروائی03 October, 2006 | پاکستان آپریشن مکمل، کئی غیر ملکی گرفتار24 February, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||