BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر ملکیوں کے خلاف لشکر تیار

جرگہ (فائل فوٹو)
جرگے کے مطابق دو سو جنگجوغیر ملکیوں کے خلاف لڑیں گے (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمد زئی وزیر قبیلہ کے ایک جرگہ میں دو سوافراد پر مشتمل مسلح لشکر تیار کرلیا گیا ہے جو غیرملکیوں کو علاقہ بدر کرنے کےلئے کارروائی کا آغاز کسی وقت بھی کرسکتا ہے۔

دوسری طرف دو ہفتوں سے جاری جھڑپیں منگل کے روز بھی وقفے وقفے سے جاری رہی تاہم تازہ لڑائی میں تاحال کسی کی ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ادھر حکومت حامی قبائل جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر کے ساتھیوں کی جانب سے وانا بازار میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا ہے جس میں ازبک غیر ملکیوں کے کمانڈر طاہر یلدیشف کو امریکہ اور افغان صدر حامد کرزئی کا مبینہ ایجنٹ قرار دے کر ’واجب القتل’ قرار دیا گیا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق احمد زئی وزیر قبیلے کا ایک جرگہ امن کمیٹی کے سابق رکن ملک شرین جان کی قیادت میں منعقد ہوا جس میں سینکڑوں قبائیلیوں نے شرکت کی۔

جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں دو سو جنگجوؤں کا لشکر مقامی قبائل کے سربراہ مولوی نذیر کی قیادت میں غیر ملکیوں کے خلاف لڑے گا جبکہ دیگر سات سو مسلح افراد ضرورت پڑنے پر لشکر کا ساتھ دیں گے۔

 پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ ازبک کمانڈر نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں دو سو کے قریب قبائلی سرداروں اور ان کے مشیران کو ناحق قتل کیا ہے جو پمفلٹ کے الفاظ میں غیر شرعی اور خلاف اسلام ہے۔ پملفٹ کے مطابق طاہر یلدیشف کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالات خراب کرنے یہاں بھیجا گیا ہے لہذا ان کے اور ان کے حامیوں کے خلاف کاروائی کرنا اب ہر قبائلی ہر فرض ہے۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ ازبک کمانڈر نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں دو سو کے قریب قبائلی سرداروں اور ان کے مشیران کو ناحق قتل کیا ہے جو پمفلٹ کے الفاظ میں غیر شرعی اور خلاف اسلام ہے۔ پملفٹ کے مطابق طاہر یلدیشف کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالات خراب کرنے یہاں بھیجا گیا ہے لہذا ان کے اور ان کے حامیوں کے خلاف کاروائی کرنا اب ہر قبائلی ہر فرض ہے۔

اطلاعات ہیں کہ پیر کی رات وانا سکواٹس کیمپ میں تعینات پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شین ورسک کے علاقے پر وقفے وقفے سے توپ خانے کے گولے فائر کئے گئے ہیں تاہم سرکاری ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

حکومت کی طرف سے شین ورسک کے علاقوں میں امن معاہدے کی نتیجے میں خالی کرائے گئے مورچوں پر غیر ملکیوں کا قبضہ بدستور برقرار ہے۔

قبائل اور غیر ملکیوں کے مابین انیس مارچ سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں اب تک لگ بھگ 200 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جرگہمذاکرات شروع
وزیرستان: جرگے کو درپیش مسائل
 اسلحہ القاعدہ کو نکالو
شمالی وزیرستانیوں کو فوجی کارروائی کی دھمکی
وزیرستانطالبان سے معاہدہ
وزیرستان خطے میں امن فارمولوں کی تجربہ گاہ
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
طالبان’طالبان کا ملک‘
جنوبی وزیرستان میں طالبان ہر جگہ نظر آتے ہیں
لعل خانوانا ایک ویرانہ
وزیرستان میں اب کوئی بولنے کو تیار نہیں ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد