’وزیرستان جھڑپیں جاری 52 ہلاک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے مطابق قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائلی اور غیرملکی شدت پسندوں کے درمیان دو روز سے جاری جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد باون ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں پینتالیس غیرملکی اور باقی مقامی قبائلی ہیں تاہم ان اعداد کی آزادانہ ذرآئع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ لڑائی میں نیم فوجی ملیشیا کے دو فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم فوج کے ترجمان میجر جنرل ارشد وحید کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع ابھی نہیں ہے۔ مقامی سرکاری اہلکاروں نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ستائیس بتائی تھی۔ صدر مقام وانا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وقفے وقفے سے جاری لڑائی میں فریقین ایک دوسرے کے مورچوں پر ہلکا اور بھاری اسلحہ استعمال رہے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل ایک جرگے کی کوششوں کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی ہو گئی تھی لیکن دو روز قبل لڑائی پھر شروع ہو گئی۔ اطلاعات کہ مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین مقامی اور سات غیرملکیوں کے علاوہ ایک موٹر سائیکل سوار شہری بھی شامل ہے۔ وانا سے مغرب میں کلوشہ، اعظم ورسک اور شین ورسک کے علاقوں میں یہ لڑائی انیس مارچ کو شروع ہوئی تھی۔ مقامی جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر نے اعلان کیا ہے کہ غیرملکیوں کو غیرمسلح اور علاقہ بدر کرنے تک جنگ جاری رہے گی۔ اطلاعات کے مطابق غیرملکیوں کے خلاف لڑنے والے ایک قبائلی جنگجو سردار حاجی شریف بھی لڑائی میں زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ان کی جان کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ادھر غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے سفید کپڑوں میں غیرملکیوں کے خلاف لڑائی میں مولوی نذیر کا ساتھ دینا شروع کر دیا ہے۔ اس خبر کی تاہم سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان حکومت اور طالبان کا معاہدہ05 September, 2006 | پاکستان ’معاہدہ پاکستان کے لیے اہم ہے‘05 September, 2006 | پاکستان ’پاکستان ظلم کرے گا تو معاہدہ ختم‘31 October, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||