BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 13:22 GMT 18:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: جھڑپوں میں دو ہلاک

فائل فوٹو
سکیورٹی فورسز نے مزاحمت کاروں کے خلاف توپ خانے کا استعمال کیا ہے (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائل اور غیر ملکیوں کے درمیان انیس مارچ سے شروع ہونے والی تازہ جھڑپوں میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف وانا میں احمد زئی وزیر قبائل کا ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ دو سو افراد کا لشکر مقامی جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر کی قیادت میں کل سے علاقے میں غیر ملکیوں کے خلاف کاروائی شروع کرے گا۔

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تشدد کا تازہ واقعہ وانا بازار میں مقامی جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر اور غیر ملکیوں کے ایک حامی جاوید کرمزخیل کے ساتھیوں کے مابین پیش آیا جس میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی کے بعد مولوی نذیر کے حامی مخالفین کے تین افراد کو یرغمال بناکر اپنے ساتھ لےگئے۔

مقامی قبائل نے وزیرستان میں مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے (فائل فوٹو)

وانا بازار میں احمد زئی وزیر قبائل کا ایک جرگہ امن کمیٹی کے سابق ممبر ملک شرین جان کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں سینکڑوں قبائلی افراد نے شرکت کی۔ جرگے میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے حکومتی حمایت یافتہ قبائلی مشیران اور عمائدین کے رشتہ داروں نے بھی شرکت کی۔

جرگے نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ احمد زئی وزیر قبیلے کے دو سو افراد پر مشتمل جنگجو منگل سے مولوی نذیر کی سربراہی میں غیر ملکیوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے کاررروائی شروع کریں گے۔

قبائل اور غیر ملکیوں کے مابین انیس مارچ سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں اب تک لگ بھگ 200 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ادھر وزیرستان سے ملحق صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک میں حکومت اور مقامی عمائدین کا ایک جرگہ منعقد ہوا اور علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے گیارہ شرائط پر دستخط کیے گئے۔

جرگہ میں شریک سینیٹر صالح شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگے کے مطابق
’جہاد’ کے نام پر سکولوں میں داخل ہونے اور طلباء کو لے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کی صبح آٹھ سے تین بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی جبکہ کل اس سلسلے میں مزید نرمی کی جائےگی۔

جرگہمذاکرات شروع
وزیرستان: جرگے کو درپیش مسائل
 اسلحہ القاعدہ کو نکالو
شمالی وزیرستانیوں کو فوجی کارروائی کی دھمکی
وزیرستانطالبان سے معاہدہ
وزیرستان خطے میں امن فارمولوں کی تجربہ گاہ
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
طالبان’طالبان کا ملک‘
جنوبی وزیرستان میں طالبان ہر جگہ نظر آتے ہیں
لعل خانوانا ایک ویرانہ
وزیرستان میں اب کوئی بولنے کو تیار نہیں ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد