BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 April, 2007, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ازبکوں کے خلاف قبائل کیوں اٹھ کھڑے ہوئے؟

’ازبکوں نے بدمعاشیاں، چوریاں اور قتل اور ’غیرشرعی قتل‘ شروع کر دیئے اس وجہ سے قبائل ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے‘
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن وانا میں کچھ عرصہ قبل تک چند سو ازبک مقامی قبائلیوں کے مہمان تھے لیکن پھر بظاہر یکایک ایک تبدیلی آئی اور مقامی قبائلیوں کے بقول یہ مہمان وبال جان بن گئے۔

جنوبی وزیرستان میں تھوڑے عرصہ قبل تک غیرملکیوں کی موجودگی سے سب انکاری تھے۔ کسی سے پوچھیں کہ وہ حکومت کے اس الزام کے بارے میں کیا کہتا ہے کہ علاقے میں غیرملکی موجود ہیں تو وہ الٹا حکومت کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتا تھا، لیکن اس موقف میں چند ماہ قبل اچانک تبدیلی آئی۔

غیرملکی یعنی ازبک وہاں ناصرف پیدا ہوئے بلکہ بدنام بھی ہوئے۔ وانا میں بچے سے لے کر بڑے تک ہر قبائلی کی زبان سے ازبکوں پر کڑی تنقید ہے۔ انہیں چوری چکاری سے لے کر قبائلی سرداروں کے قتل تک ہر جرم کا ذمہ دار قرار دیا جانے لگا ہے۔

ایک اہم قبائلی شخصیت ملک خدین کے بھائی اسلم نور نے عوامی رائے کچھ یوں بیان کی کہ وہ ان غیرملکی مہمانوں کی اسلام اور مجاہد ہونے کی وجہ سے خدمت کر رہے تھے۔

’ازبکوں کا ظلم‘
ایک قبائلی سردار شجاعت وزیر کا ان کے ظلم کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ ان قیدخانوں میں لوگوں کو تیزی سے نہیں بلکہ آہستہ آہستہ مارتے تھے

ایک دوسرے قبائلی چالیس سالہ محمد قاسم کا کہنا تھا کہ یہ ازبک مسلمان نہیں وحشی تھے۔ ’وہ گوانتناموبے سے زیادہ مظالم کرتے تھے۔‘

چوری چکاری یا اہم شخصیات کے قتل کا ثبوت دورے پر آئے ہوئے صحافیوں کو نہیں دکھایا گیا لیکن مقامی قبائل نے انہیں ان ازبکوں کا ایک قیدخانہ ضرور دکھایا جہاں یہ ازبک شدت پسند مبینہ طور پر اپنے مخالفین سے انسانیت سوز سلوک کیا کرتے تھے۔

مٹی کا بنا قلعہ نما یہ مکان وانا کے مضافات میں ایک گاؤں کی آبادی سے قدرے دوری پر واقع تھا۔ اس کی اونچی اونچی دیواروں کے برعکس اس میں داخل ہونے کا دروازہ انتہائی چھوٹا تھا۔

اندر داخل ہوں تو بڑے سے احاطے کی ایک جانب چار کنویں دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک پانی کے لیے جبکہ بقیہ تین قیدیوں کو رکھنے کے لیے تھے۔ پندرہ پندرہ فٹ گہرے ان کنوؤں کے پیندے قدرے چوڑے تھے لیکن منہ کافی تنگ۔ اسی قسم کے گڑھے نما قیدخانے چند کمروں کے اندر بھی تھے۔

وہیں موجود اس گاؤں کے ایک رہائشی شاکر سے اس قیدخانے کی تفصیل دریافت کی تو اس نے بتایا کہ اس مکان میں صرف ازبک مرد رہتے تھے۔ ’تیس کے قریب یہ ازبک افغانستان میں طالبان اسلامی تحریک کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہاں منتقل ہوگئے تھے۔ وہ قریبی لوگوں سے کوئی زیادہ تعلق نہیں رکھتے تھے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ قیدیوں کو ذبح بھی یہیں کیا کرتے تھے۔‘

ایک قبائلی سردار شجاعت وزیر کا ان کے ظلم کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ ان قیدخانوں میں لوگوں کو تیزی سے نہیں بلکہ آہستہ آہستہ مارتے تھے۔


مقامی قبائل اور ازبک جنگجوؤں کے درمیان وانا کے مغرب میں اعظم ورسک، شین ورسک اور کلوشہ کے علاقوں میں تین ہفتے سے زائد عرصے تک لڑائی ہوئی تھی۔ اس میں سرکاری اہلکاروں کے مطابق دو سو سے زائد غیرملکی ہلاک ہوئے تھے تاہم مقامی ذرائع یہ تعداد کافی کم بتاتے ہیں۔

شین ورسک بھی وہ علاقہ جہاں پاکستان فوج بھی لڑائی میں اپنے مورچوں پر قبضے کی خاطر شامل ہوگئی تھی۔ صحافیوں کو شین ورسک کے علاقے میں مقامی قبائلیوں نے ایک لاش بھی دکھائی جو بقول ان کے ایک ازبک کی تھی۔

لاش منہ کے بل پڑی تھی لہذا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہ شخص کون ہے۔ کئی روز سےگل سڑ رہی اس لاش کی تدفین کو کوئی تیار نہیں، اسی سے شاید ازبکوں سے نفرت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

چند سوگز کے فاصلے پر ایک چوٹی پر پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں اور مقامی قبائلی جنگجوؤں کو ایک چوکی میں بیٹھے دیکھا۔

ان ازبکوں کے خلاف لشکر کشی کرنے والے ملا نذیر احمد سے دریافت کیا کہ کیسے سب کے سب ازبک یکسر برے ہوئے تو ان کا کہنا تھا کہ سوکھے کے ساتھ گیلی بھی جل جاتی ہے۔

’ان کے امیر اور دیگر رہنما سب اس میں ملوث تھے تو باقی بھی ضرور ملوث تھے۔ اسلام میں تو ہے کہ آپ پہلے پوری تصدیق کریں گے۔ ہم نے اعلان کیا تھا کہ جو کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں اسے کچھ نہیں کہا جائے گا لیکن ان سب نے قاری طاہر جان کی قیادت میں لڑائی میں حصہ لیا تو یقینا یہ سب ملوث تھے۔‘

ملا نذیر نے کہا کہ جب یہ ازبک یہاں آئے تو ابتدا میں پرامن زندگی بسر کر رہے تھے لیکن بعد میں انہوں نے بدمعاشی، چوریاں اور قتل اور ’غیرشرعی قتل‘ شروع کر دیئے۔ اس وجہ سے قبائل ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

لڑائی کے دوران سرکاری اہلکار اور قبائلی بڑی تعداد میں ازبکوں کو پکڑنے کا بھی دعویٰ کر رہے تھے لیکن حیران کن طور پر ملا نذیر نے کسی ایسی گرفتاری سے انکار کیا۔ ’ہمارے ہاتھ کوئی نہیں آیا۔‘

بچ جانے والے ازبک کہاں منتقل ہوئے اس بارے میں ملا نذیر کا کہنا تھا کہ وہ شمالی وزیرستان میں میر علی یا پھر افغانستان چلے گئے ہوں گے۔

صحافی ہونے کے ناطے تصویر کا دوسرا رخ یعنی ازبک شدت پسندوں کے ردعمل کے بغیر یہ کہانی یقینا ادھوری ہے۔ لیکن جنوبی وزیرستان میں جاری حالات میں صحافیوں کو اکثر تصویر کے ایک رخ پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے اور اس مرتبہ بھی صورتحال یہی ہے۔

کچھ لوگوں کے خیال میں ان ازبکوں کا چاہے ان کا قصور کتنا بھی ہو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ انہیں ایک منظم مہم کے ذریعے بدنام کیا گیا ہے۔

ازبک اپنے موقف کے ساتھ آیا سامنے آئیں گے؟ ایسا ان کے لیئے شاید موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔

قبائلکون کس کے ساتھ ہے؟
جنوبی وزیرستان میں لڑنے والے قبائل کون ہیں؟
طالبان(فائل فوٹو)پنجابی طالبان کون؟
وزیرستان کے نئے جنگجو:عامر احمد خان
wanaوانا جو جنت تھا
میرے بچپن کا وانا دوزخ کیسے بن گیا؟
سیاہ شیشوں پر تنازع
وزیرستان: مقامی و غیر ملکیوں میں کشیدگی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد