وانا جو کبھی تھا، وانا جو اب ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ بات سات فروری دو ہزار پانچ کی ہے جب میں چند صحافیوں سمیت ایک گاڑی میں بیت اللہ محسود کے حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی رپورٹنگ کرنے کے بعد واپس وانا لوٹ رہا تھا۔ جب ہماری منی بس سول ہسپتال وانا کے نزدیک پہنچی تو اچانک ایک گاڑی ہماری منی بس کے قریب آئی اور اس میں بیٹھے دو افراد نے کلاشنکوف کا رخ ہماری بس کی طرف کر کے گولیاں چلانا شروع کر دیں۔ میں چونکہ بس کی سب سے اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا اس لیے میں نے ساتھ والی گاڑی کے دونوں افراد کو گولیاں چلاتے صاف دیکھا۔ انہوں نے نقاب پہنے ہوئے تھے۔ قسمت نے مجھے تو پچا لیا لیکن بدقسمتی سے مجھ سے پچھلی سیٹ پر بیٹھے میرے دو ساتھی صحافی اللہ نور اور امیر نواب ان درندوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ اللہ نور کا تو چہرہ ایک طرف سے اڑ گیا اور امیر نواب کی گردن میں بے تحاشہ گولیاں لگیں۔ میں نے ان دونوں کو اپنے ہاتھوں میں دم توڑتے دیکھا۔
ایک صحافی کو کس کس طرح کے تجربات سے گزرنا پڑتا ہے یہ تو بس وہی جانتا ہے اور اگر وہ صحافی وانا اور وزیرستان کے دوسرے علاقوں میں رپورٹنگ کرتا ہو تو یہ تجربات مزید خطرناک بن جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اگرچہ مجھے احساس تھا کہ ہم پر جان لیوا حملہ ہوا ہے اور دو ساتھی دم توڑ چکے ہیں لیکن ساتھ ساتھ میرے اندر کا صحافی حملے کی اس خبر کو میڈیا کو بتانے کے لیے بھی بے چین تھا۔ ہو سکتا ہے کہ پڑھنے والے اسے خود غرضی کہیں لیکن یہ سچ ہے کہ یہ ہی ہماری زندگی ہے اور یہ ہی ہمارا پیشہ ہے۔ میں خون آلود کپڑوں کے ساتھ فوراً قریبی پبلک کال آفس پر گیا اور بی بی سی لندن فون کر کے یہ خبر لکھوائی۔ یہ ایک مشکل کام تھا، اپنے ساتھ بیتی خبر کی خبر دینا شاید ہمیشہ ہی مشکل ہوتا ہے لیکن اس دن ایسا ہی ہوا۔ اس کے بعد گولیوں کی تڑتڑاہٹ کئی روز تک میرے کانوں میں گونجتی رہی۔ یہ واقعہ رات سات بج کر چالیس منٹ پر پیش آیا تھا اور بی بی سی کا بلیٹن آٹھ بجے چلا۔ بی بی سی پر خبر سن کر سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہسپتال پہنچ گئے۔ میرا بی بی سی سے پہلا رابطہ فروری دو ہزار دو میں اس وقت ہوا تھا جب ایک رات ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور کسی نے کہا ’ہیلو، میں لندن سے بول رہی ہوں، مجھے دلاور خان وزیر سے بات کرنی ہے‘۔ گہری نیند سے اٹھنے کے باوجود میں نے وہ آواز فوراً پہچان لی۔ یہ بی بی سی کی پروڈیوسر ماہ پارہ صفدر کی آواز
جب نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکہ اور اتحادیوں نے ہوائی حملے شروع کیے تو بیش تر دنیا خصوصاً پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ علماء اور مذہبی جماعتوں نے افغانستان میں طالبان کی مدد کے لیے امدادی کیمپ لگائے جن میں نقدی، سامانِ خورد و نوش کپڑے اور بستر وغیرہ جمع کیے جاتے۔اس کے علاوہ اتحادیوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ تیار ہو گئے۔ علماء اس پر زور دے رہے تھے کہ جنت جانے کے لیے قریب ترین راستہ جہاد میں شہادت حاصل کرنا ہے۔ تمام مساجد میں جہاد کے متعلق قرآنی آیات کے ترجمے اکٹھے کیے گیے اور ایک موقع پر تو ایک بڑے عالمِ دین اور وزیرستان میں مشہور مذہبی شخصیت نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’افغانستان میں لڑنے والی امریکی افواج میں خواتین فوجی بھی شامل ہیں۔ جہاد کے دوران اگر کوئی امریکی فوجی خاتون ہاتھ لگ جائے تو اس سے اپنی خواہش پوری کرنا کوئی گناہ نہیں ہے اور مجاہد کے لیے یہ جائز ہے‘۔ ویسے تو قبائلی علاقے کے لوگ مذہبی طورپر جذباتی ہوتے ہیں لیکن علماء کی ایسی تقریروں نے بوڑھے اور جوانوں دونوں کے ہی جذبہ جہاد میں اضافہ کر دیا۔ میدان جنگ میں لڑنا کسی ایک قبیلے کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہی وجہ تھی کہ فوراً ہی سینکڑوں قبائلی باشندے جنگ میں کود پڑے۔
اس دوران میں نے بھی بی بی سی کے ساتھ باقاعدہ کام شروع کیا تھا۔ کافی مشکل حالات میں خبریں تصاویر اور وڈیو بنانے پڑے۔ لیکن آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو صحافت بہت مہنگی پڑی اور ان کی جائیدادوں اور مکانات پر حملے شروع ہوگئے۔ ان حالات میں تین صحافی ہلاک اور کئی زخمی بھی ہوئے۔ صحافت اور صحافیوں کے بارے میں خوف اتنا بڑھا کہ لوگوں نے صحافیوں کے ساتھ گاڑیوں میں آنا جانا ترک کر دیا کیونکہ صحافی پر کسی وقت بھی حملہ ہوسکتا تھا حملوں کے پیچھے کون تھا کبھی معلوم نہیں ہو سکا۔ بہرحال قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگ پہلے ہی سے کافی تعداد میں طالبان حکومت میں شامل تھے اور اچھے خاصے عہدوں پر بھی کام کرتے تھے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر جو ڈیورنڈ لائن کے نام سے مشہور ہے اس لائن کے آرپار مختلف مقامات پر ایک ہی قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ طالبان کی حکومت میں چونکہ زیادہ تر پشتون تھے تو اس لحاظ سے خونی رشتے، علاقائی رشتے اور ایک زبان کے رشتے کی بنیاد پر لوگوں نے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور طالبان حکومت کے آخری ایام تک اپنی وفاداری کا ثبوت دیا۔ یہاں تک کہ وزیرستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قبائلی باشندوں کو کافی جانی و مالی نقصان پہنچا لیکن پھر بھی وہاں کے لوگوں کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ برقرار رہیں۔ وزیرستان کے لوگ اپنی روایات پر بہت فخر کرتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اتنے دباؤ اور نہ ختم ہونے والے بم اور راکٹ حملوں کے بعد بھی وہاں کے لوگ اپنی روایت کے مطابق ان لوگوں کا ساتھ دے رہے ہیں جن کے خلاف پوری دنیا ہے۔
مجھے یہ نہیں معلوم کہ ٹھیک کیا ہے اور غلط کیا۔ طالبان کا سچ، سچ نہیں ہے یا امریکہ اور پاکستان کا سچ، سچ نہیں ہے لیکن امریکہ کے سچ کو وزیرستان کے لوگ جھوٹ سمجھتے ہیں۔ اس دوران بم گھروں پر گرتے رہے ہیں۔ بچے، بوڑھے، خواتین اور ان گنت جوان بے موت مرتے رہے ہیں اور شاید مرتے رہیں گے۔ وانا جو میرے بچپن میں ایک جنت کی طرح تھا آج کل کے بچوں کے لیے دوزخ سے کم نہیں ہے۔ پتہ نہیں ہم اگلی نسلوں کو کیا دے رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں حکومت دلاور کو بازیاب کرائے: مشترکہ قرارداد21 November, 2006 | پاکستان کسی کے پاس جواب نہیں 21 November, 2006 | پاکستان ہم کچھ نہیں کہہ سکتے: وزراء21 November, 2006 | پاکستان لاپتہ صحافی: کسی کے پاس جواب نہیں 20 November, 2006 | پاکستان دلاور وزیر: ابھی تک کوئی سراغ نہیں20 November, 2006 | پاکستان صحافی کے بھائی کے قتل کی تحقیقات30 August, 2006 | پاکستان بی بی سی نامہ نگار کے بھائی کا قتل30 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||