صحافی کے بھائی کے قتل کی تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ صحافی دلاور خان وزیر کے پندرہ سالہ بھائی تیمور خان کی پراسرار ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تیمور بی بی سی کے وانا کے نمائندے دلاور خان کے چھوٹے بھائی تھے۔ مقامی لوگوں کو پندرہ سالہ تیمور خان وزیر شدید زخمی حالت میں آج صبح جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے مضافات میں کڑی کوٹ کے علاقے میں ملے۔ عینی شاہدین کے مطابق وہ بول نہیں سکتے تھے لیکن زندہ تھے۔ انہیں قریبی ہسپتال لیے جایا گیا جہاں بعد میں ان کی شناخت ہوئی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اسٹسنٹ پولیٹکل ایجنٹ وانا ارشد نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ تیمور کے جسم پر گولی کے نشان نہیں تھے تاہم وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ پتھر لگنے یا گرنے سے ہلاک ہوئے۔ تیمور بی بی سی اردو سروس کے وانا کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے چھوٹے بھائی تھے۔ دلاور کا کہنا تھا کہ انہیں اس موت کی وجہ ابھی معلوم نہیں تاہم انہوں نے کسی خاندانی یا قبائلی دشمنی سے بھی انکار کیا ہے۔ مقامی حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ماضی میں بھی دلاور خان کے گھر اور نجی سکول کے باہر نامعلوم افراد بم دھماکے کر چکے ہیں جبکہ ان کو تحریری دھمکیاں بھی ملی تھیں۔ کئی حلقوں کا حکومت پر الزام ہے کہ اس القاعدہ اور طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے اس علاقے میں سرکاری رٹ تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ تاہم حکومت کا موقف ہے کہ مقامی قبائل کے ساتھ امن معاہدوں کے بعد جنوبی وزیرستان میں امن و عامہ کی صورتحال اب قدرے بہتر ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||