BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 November, 2006, 22:25 GMT 03:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ صحافی: کسی کے پاس جواب نہیں

دلاور خان وزیر پیرکواسلام آباد سے ڈیرہ اسماعیل خان روانہ ہوئے تھے۔
جنوبی وزیرستان میں بی بی سی کے لیے رپورٹنگ پر مامور نامہ نگار دلاور خان وزیر کو لاپتہ ہوئے کئی گھنٹے گزر گئے لیکن ابھی تک یہ بھی نہیں معلوم ہو سکا کہ انہیں اغوا کیا گیا یا وہ کسی ریاستی ادارے کی تحویل میں ہیں۔

حکومت کے سبھی ذمہ دار لوگ جن سے رابطہ ہوا وہ یہی کہہ رہےتھے کہ وہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دلاور خان وزیر حکومت کی ایجنسیوں کے پاس ہیں یا نہیں۔ انہوں نے اس بارے میں تردید یا تصدیق نہیں کی۔ تاہم رات گئے تک پولیس کے اعلیٰ حکام دفتر آتے رہے جن میں اسلام آباد کے قائم مقام آئی جی اور شہر کے ایس ایس پی شامل ہیں۔


پولیس حکام نے گمشدہ صحافی کے چھوٹے بھائی ذوالفقار علی سے جو بہت خوفزدہ تھے بہت سے سوالات کیے اور ان کے تحریری بیان کی بنیاد پر نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی۔ حکام نے کہا کہ فی الحال وہ نہیں کہہ سکتے کہ اس واقعے میں کون ملوث ہے۔

پولیس حکام تسلی بھی دیتے رہے اور کہہ رہے تھے کہ وہ تمام پہلؤوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کر کے تفتیش آگے بڑھائیں گے۔ پولیس کا رویہ ہمدردانہ تھا اور اعلیٰ حکام اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لے رہے تھے لیکن اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔

ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں: ذوالفقارعلی (دلاور کے بھائی)

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اتنی دیر گزر جانے کے باوجود سرکاری حکام ابھی تک یہ نہیں بتا سکے کہ گمشدہ صحافی کسی سرکاری ایجنسی کی تحویل میں ہے یا نہیں۔اگر ملک میں جمہوریت ہے اور تمام ادارے اور ایجنسیاں حکومت کے کنٹرول میں تو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ اتنی دیر میں یہ بھی پتہ نہ چلایا جا سکے کہ ان میں سے کسی نے ایک شخص کو پکڑا ہے یا نہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی آمد پر اسلام آباد میں سیکیورٹی بھی معمول سے زیادہ سخت تھی اور اس ماحول میں کسی صحافی کو دِن دیہاڑے اغؤا کیے جانے کا امکان حیرت انگیز معلوم ہوتا ہے۔

صحافی تنظیموں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دلاور خان وزیر پاکستان کے خفیہ اداروں کی قید میں ہو سکتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل نامعلوم افراد نے دلاور خان وزیر کے چھوٹے بھائی تیمور خان کو ہلاک کر دیا تھا۔

دلاور خان وزیر پیر کی دوپہر اسلام آباد میں واقع اسلامی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم اپنے بھائی ذوالفقار علی خان وزیر سے ملاقات کرنے کے بعد، ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

پاکستان کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر اشفاق گوندل نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پیر کی دوپہر جیسے ہی دلاور خان وزیر کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی انہوں نے سیکرٹری وزارت داخلہ سے بات کی جنہوں نے پولیس کے مختلف اداروں کے متعلقہ حکام سے بات کرنے کے بعد کہا کہ اس مسئلہ کو جلد حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ضروری احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس طرح کے معاملات میں جن اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں وہ کتنی دیر میں معلومات فراہم کرتے ہیں اشفاق گوندل نے کہا کہ انہیں پیر کو دلاور خان وزیر کی گمشدگی کی اطلاع ملی تھی اور اس کے بعد سے وہ اس سلسلے میں کوشاں ہیں اور امید ظاہر کی جلد ہی کچھ معلوم ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ
21 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد