دلاور وزیر: ابھی تک کوئی سراغ نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیرستان میں بی بی سی کے لیے رپورٹنگ پر مامور نامہ نگار دلاور خان وزیر پیر کو اسلام آباد سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔ صحافی تنظیموں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دلاور خان وزیر پاکستان کے خفیہ اداروں کی قید میں ہو سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل نامعلوم افراد نے دلاور خان وزیر کے چھوٹے بھائی تیمور خان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ دلاور خان وزیر کے موبائل فون پر مسلسل رابطہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ان کے ٹیلی فون سے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا۔ دلاور خان وزیر پیر کی دوپہر اسلام آباد میں واقع اسلامی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم اپنے بھائی ذوالفقار علی خان وزیر سے ملاقات کرنے کے بعد، ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
دلاور خان وزیرِ کی روانگی کے کچھ دیر بعد سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ افراد اسلامی یونیورسٹی کے ہاسٹل پہنچے اور ذوالفقار علی خان وزیرکے بارے میں پوچھنے لگے۔ انہوں نے ذوالفقار خان کے دوستوں کو بتایا کہ دلاور خان وزیر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ پمز ہسپتال میں داخل ہیں لہذا وہ ذوالفقار کو ساتھ ہسپتال لے جانا چاہتے ہیں۔ ذوالفقار خان کے مطابقدوستوں نے انہیں کہا کہ سادہ کپڑوں میں موجود لوگ بظاہر خفیہ ایجنسی کے اہلکار نظر آتے ہیں۔
ذوالفقار خان کو وہ لوگ مشکوک لگے لہذا وہ ان کے ساتھ نہیں گئے۔ ان کے جانے کے بعد ذوالفقار خان نے دلاور خان کے موبائل پر فون کیا تو کسی شخص نے کہا: ’میں ڈاکٹر جمشید بول رہا ہوں اور پمز ہسپتال میں ہوتا ہوں۔ یہاں آپ کا بھائی زخمی حالت میں موجود ہے اس کا پیر ودھائی کے پاس ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔‘ ذوالفقار نے بتایا کہ جب دلاور خان کے فون سے ڈاکٹر جمشید نامی شخص بولنے لگا تو انہیں شک ہوا اور انہوں نے اپنے دو ساتھیوں کو پمز بھیجا تو سادہ کپڑوں میں وہاں موجود لوگوں نے ان کا پیچھا کیا اور وہ گلیوں سے گزر کر پمز ہسپتال پہنچے۔ ان کے مطابق وہاں نہ دلاور وزیر تھا نہ ڈاکٹر جمشید۔
دریں اثنا ذوالفقار خان نے بی بی سی کے دفتر میں فون کرکے اطلاع دی کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ انہیں لے جانے کے لیے کھڑے ہیں اور خاصی مشکوک صورتحال ہے۔ ان کی اطلاع کے بعد اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار جب پمز ہسپتال کے شعبۂ حادثات پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ نہ وہاں دلاور خان وزیر موجود تھے اور نہ جمشید نامی ڈاکٹر ہسپتال کے سٹاف میں شامل تھے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے رابطہ کرنے پر مشورہ دیا کہ اس سلسلے میں وزراتِ داخلہ سے معلومات حاصل کی جائے۔ اسلام آباد میں وزارتِ اطلاعات و نشریات میں پرنسل انفارمیشن آفسر اشفاق گوندل کا کہنا ہے کہ وہ وزراتِ داخلہ سے بات کرنے کے بعد ہی دلاور خان وزیر کی پراسرار گمشدگی کے بارے میں کچھ کہہ سکیں گے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ان کی سیکریٹری داخلہ سے بات ہوئی ہے اور وہ ابھی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
جب ہمارے نامہ نگار اسلامک یونیورسٹی پہنچے تو وہاں سادہ کپڑوں میں موجود لوگ جاچکے تھے۔ لیکن وہاں کرکٹ کھیلنے والے طلبا نے بتایا کہ دس سے بارہ افراد ایک گھنٹے تک یہاں موجود رہے۔ ذوالفقار خان وزیر نے بتایا کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی سے ان کی قبائلی دشمنی ہوتی تو وہ اپنے علاقے میں کارروائی کرتے دن دہاڑے اسلام آباد میں ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ ادھر ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نامی تنظیم نے نے دلاور خان وزیر کی پراسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں تنظیم نے کہا کہ پاکستانی حکام کو ہر وہ کوشش کرنی چاہیئے جس سے دلاور خان وزیر کی گمشدگی کے واقعہ پر روشنی پڑتی ہو۔ تنظیم کے مطابق ’اگر یہ امکان ہو بھی کہ دلاور خان وزیر کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے تو بھی جس انداز سے وہ لاپتہ ہوئے ہیں اس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ انہیں اغواء کیا گیا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ دلاور خان وزیر نامہ نگاروں کے اغواء کے اس سلسلے کا تازہ شکار ہیں جس کی ایک مثال ایک سال قبل صحافی حیات اللہ کا اغواء تھا۔‘ | اسی بارے میں بی بی سی نامہ نگار کے بھائی کا قتل30 August, 2006 | پاکستان صحافی کے بھائی کے قتل کی تحقیقات30 August, 2006 | پاکستان کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ21 September, 2006 | پاکستان صحافی کی بازیابی کے لیئے احتجاج26 July, 2006 | پاکستان پاکستان: سندھ میں ایک صحافی لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||