BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 April, 2007, 18:50 GMT 23:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا جھڑپوں میں حکومت سے اپیل

جنوبی وزیرستان
انیس مارچ سے جاری اس لڑائی میں اب تک دونوں جانب سے ڈھائی سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائل نے غیر ملکیوں کے خلاف دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں حکومت سے مدد طلب کرلی ہے۔

دوسری طرف فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ قبائل نے تاحال ان سے مدد کےحوالے رابط نہیں کیا تاہم اگر انہوں نے اس سلسلے میں درخواست کی تو حکومت اس پر بعد میں سوچی گی۔

صدر مقام وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو احمدزئی وزیر قبائل کا ایک جرگہ امن کمیٹی کے سابق رکن ملک شرین جان کی قیادت میں منعقد ہوا جس میں اس قبیلے کے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

جرگے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ازبک غیر ملکیوں کے خلاف جاری لڑائی میں ان کی مدد کی جائے۔ جرگے سے خطاب میں قبائلی سرداروں نے کہا کہ حکومت کے تعاون کے بغیر غیر ملکیوں کے خلاف کامیابی مشکل ہے لہذا حکومت کو اس سلسلے میں قبائل کی مدد کرنی چاہیے۔

ڈھائی سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں
 قبائل اور ازبک جنگجوؤں کے مابین انیس مارچ سے جاری اس لڑائی میں اب تک دونوں جانب سے ڈھائی سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں

پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل وحیدارشد نے رابط کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ قبائل نے تاحال غیر ملکیوں کے خلاف مدد طلب کرنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے تاہم اگر انہوں نے اس سلسلے میں رابط کیا تو حکومت اس پر بعد میں سوچے کرے گی۔

حکومت وزیرستان میں قبائل اور غیر ملکیوں کے مابین دو ہفتے قبل شروع ہونے والی ان جھڑپوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتی رہی تاہم بعض ذرائع کے مطابق قبائل کو حکومت کی مبینہ حمایت اور مدد حاصل ہے۔

ادھر دوسری طرف قبائل اور ازبک غیر ملکیوں کے مابین لڑائی آج بھی وانا کے مغرب میں وقفے وقفے سے جاری رہی۔ تاہم تازہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات نہیں ملی ہے۔

گزشتہ روز قبائلی لشکر کی جانب سے شین ورسک اور ژہ غنڈی کے علاقوں میں قائم غیر ملکیوں کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے شدید حملے میں حکام کے مطابق اڑتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ آج صبح مولوی نذیر کی حامیوں کی جانب سے شین ورسک میں غیر ملکیوں کے اہم مورچوں پر تازہ حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں قبائل جنگجوؤں نے کچھ علاقوں پر کنٹرول بھی حاصل کرلیا تاہم ایک مورچے پر غیر ملکیوں کا قبضہ بدستور برقرار بتایا جاتا ہے۔

شین ورسک میں ’ پکے مورچوں ’ کے نام سے مشہور یہ مورچے پاکستانی سکیورٹی فورسزز نے مقامی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں تعمیر کرائے تھے ۔ بعد میں حکومت اور مقامی طالبان کے مابین امن معاہدے کے نتیجے میں ان مورچوں کو سکیورٹی فورسزز نے خالی کرایا تھا جو اب غیر ملکیوں کے زیر کنٹرول بتائے جاتے ہیں ۔

تازہ جھڑپیں مزید علاقوں پر کنٹرول
 مولوی نذیر کی حامیوں کی جانب سے شین ورسک میں غیر ملکیوں کے اہم مورچوں پر تازہ حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں قبائل جنگجوؤں نے کچھ علاقوں پر کنٹرول بھی حاصل کرلیا

ادھر وانا سکواٹس کیمپ سے پاکستانی سکیورٹی فورسزز کی طرف سے غیر ملکیوں کے مورچوں پر وقفے وقفے سے توپ کے گولے داغے گئے ہیں تاہم سرکاری طورپر اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

قبائل اور ازبک جنگجوؤں کے مابین انیس مارچ سے جاری اس لڑائی میں اب تک دونوں جانب سے ڈھائی سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ قبائل نے علاقے میں کئی سالوں سے مقیم غیر ملکیوں کو علاقہ بدرکرنے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کررکھا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد