کرم ایجنیسی اور امن معاہدے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قدرت کی حسین وادیوں اور نظاروں سے مالا مال پاکستان کا قبائلی علاقہ کرم ایجنسی اگرچہ ملک کے دیگر قبائلی علاقوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ پرامن علاقہ سمجھا جاتا ہے تاہم فرقہ وارانہ تشدد کے سب سے زیادہ واقعات بھی اسی علاقے میں پیش آئے ہیں۔ کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات کا آغاز انیس سو اکسٹھ میں لوئر کرم کے صدر مقام صدہ میں ہوا جہاں ایک فرقے کے گھر پر فائرنگ کے نتیجے میں فساد بھڑک اٹھے تھے۔ یہ جھڑپیں بعد میں لوئر اور وسطی کرم تک پھیلنے لگیں اور انہوں نے پورے علاقے کو اپنے لپیٹ میں لے لیا تھا۔ علاقے کے مشران کے مطابق اس لڑائی میں دونوں جانب سے اکیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پارہ چنار کے ایک بزرگ حاجی گل افضل مینگل نے بتایا کہ ساٹھ کے عشرے میں لوگوں کے پاس جدید ہتھیار نہیں تھے اسی وجہ سے لڑائیوں کی شدت زیادہ نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دنوں میں تھری ناٹ تھری بندوق سب سے بڑا ہتھیار ہوا کرتی تھی جس کے استعمال سے اتنی زیادہ تباہی نہیں ہوتی تھی جتنی آجکل کے اسلحے سے ہورہی ہے۔ ان جھڑپوں کے خاتمے پر فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پایا جس کے بعد دس سال تک علاقے میں مکمل امن برقرار رہا۔
دوسری بار جھڑپوں کا آغاز بھی صدہ سے 1987 میں ہوا جب ایک مذہبی جلوس پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک بڑی جنگ چھڑ گئی جو کئی دنوں تک جاری رہی۔ اس لڑائی نے بھی قبائلی جنگ کی شکل اختیار کرلی اور دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے۔ اس لڑائی میں مقامی ذرائع کے مطابق ستانوے کے قریب ہلاکتیں ہوئیں جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ اس لڑائی میں پہلی دفعہ بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا اور اسی کی وجہ سےعلاقے میں افغان مہاجرین کی موجودگی اور افغان جنگ کے اثرات تھے۔ اس جنگ کے بعد بھی ایک امن معاہدہ طے پایا جس کے بعد آئندہ نو سال تک ایجنسی میں امن رہا ۔ 1996 میں جب طالبان افغانستان میں کامیابی پر کامیابی حاصل کر رہے تھے تو کرم ایجنسی ایک بار پھر فرقہ وارنہ تشدد کے لپیٹ میں آیا۔ اس جنگ کے بارے میں مقامی لوگوں میں زیادہ تر کی رائے ہے کہ یہ لڑائی طالبان کو افغانستان میں کامیابی دلانے کے لیے چھیڑی گئی تھی اور اسی بہانے بڑے پیمانے پر فوج کو مبینہ طورپر افغانستان جاتے ہوئے دیکھا گیا تاہم حکومت اس بات کی تردید کرتی ہے۔ اس لڑائی میں بھی بھاری ہتھیار آزادانہ طورپر دونوں جانب سے استعمال کیے گئے جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 132 افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔ اس جنگ کے بعد فریقین کے مابین ایک امن راضی نامہ ’معاہدہ کوہاٹ‘ کے نام سے طے پایا جس کو علاقے میں اب تک ہونے والے معاہدوں میں سب سے زیادہ موثر سمجھاجاتا ہے۔ پولیٹکل ایجنٹ صاحبزادہ انیس کے مطابق معاہدہ کوہاٹ میں سب طریقہ کار لکھا ہوا ہے اور جس فریق نے اس معاہدے کو توڑا ہے۔ اس کے لیے بھی ایک قاعدہ موجود ہے جس پر عمل درآمد بھی ہوگا۔
علاقے کے مشران اور دونوں فریقوں کے رہنما اس بات سے متفق ہیں کہ کرم ایجنسی میں دو ہفتے قبل ہونے والی جھڑپیں گزشتہ چھیالیس سال میں سب سے زیادہ شدید تھیں جس میں ہلاکتیں بھی زیادہ ہوئی ہیں اور مالی نقصانات بھی بڑے پیمانے پر ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پارہ چنار اور اطراف کے علاقوں تری منگل، پیواڑ، شلوازان، تنگی منگل، پاڑہ چمکنی، کڑمان، شکردرہ، بالش خیل، صدہ، علی زئی، بغزئی، چار دیوار، جلیمہ، بشارہ، مالی خیل، شینگاک اور مقبل میں ہونے والے جھڑپوں میں تریسٹھ افراد ہلاک اور ایک سو چونسٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم مقامی اور آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔ ان لڑائیوں میں اہم بات یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر کی وجوہات مذہبی جلوس اور ان میں ایک دوسرے کے خلاف نعرہ بازی ہے جس کی وجہ سے یہ نہ بجھنے والی آگ ہر دس برس کے بعد تازہ ہوتی رہی ہے۔ | اسی بارے میں پارہ چنار: فرقہ وارانہ تصادم میں 8 ہلاک07 April, 2007 | پاکستان کرم: فائر بندی کی کوشش اور ہلاکتیں12 April, 2007 | پاکستان فریقین پر فوج کی گولہ باری09 April, 2007 | پاکستان پارہ چنار:لڑائی پھیل گئی، فوج طلب06 April, 2007 | پاکستان صدہ میں جنگ بندی، پارا چنار میں کرفیو11 April, 2007 | پاکستان ’جھڑپیں بند نہ ہوئیں تو فوج استعمال کریں گے‘08 April, 2007 | پاکستان کرفیومیں نرمی، مذاکرات میں تاخیر15 April, 2007 | پاکستان میڈیکل کالج کرم ایجنسی میں نہیں31 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||