کرفیومیں نرمی، مذاکرات میں تاخیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں امن جرگہ کی طرف سے فریقین کے مابین مستقل اور تحریری جنگ بندی کےلئے تین دن سے جاری مذاکرات سنیچر کی رات ایک بار پھر ملتوی ہوگئے۔ دوسری طرف انتظامیہ کی جانب سے اتوار کو کرفیو میں پانچ گھٹے کی نرمی دی گئی جبکہ ٹل پارا چنار مرکزی شاہراہ بدستور دس دنوں سے عام ٹریفک کےلئے بند ہے۔ لوئر کرم ایجنسی کے صدر مقام صدہ سے ملنے والی ا طلاعات کے مطابق ہنگواور اورکزئی ایجنسی کے شعیہ اور سنی عمائدین پر مشتمل امن جرگہ نے اتوار کو صدہ ریسٹ ہاؤس میں سنی قبائل سے علاقے میں مستقل اور تحریری جنگ بندی کےلئے بات چیت کی۔ صدہ سے تعلق رکھنے والے جرگہ میں موجود ایک رکن حاجی سلیم خان اورکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ صدہ سب ڈویژن میں سنیوں کے چھ قبیلے آباد ہیں جس میں کچھ قبیلوں کے مشیران کسی وجہ سے جرگہ میں موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے مزاکرات ملتوی کر دیئے گئے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام قبائل کی حاضری مکمل ہونے پر یہ مذاکرات پیر کو دوبارہ شروع ہوں گے۔ گورنر سرحد علی محمدجان اورکزئی کی جانب سے تشکیل کردہ اس امن جرگہ نے چار دن قبل پارہ چنار میں فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی کرائی تھی جس کے بعد علاقے میں ایک ہفتے سے جاری لڑائی بند ہوگئی تھی۔ ادھر کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں مقامی انتظامیہ کی طرف سے کرفیو میں آج پانچ گھنٹے کی نرمی دی گئی۔ علاقے میں سترہ اپریل سے شروع ہونے میٹرک کے امتحانات بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس دنوں سے علاقے میں بجلی کی بندش کی وجہ سے لوگ کئی قسم کے مسائل کا شکار ہوگئے ہیں۔ کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ صاحبزادہ انیس محمد نے صحافیوں سے گفتگو میں ہلاکتوں کے حوالے سے نئے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں 63 افراد ہلاک اور ایک سو چونسٹھ (164) زخمی ہوئے ہیں تاہم آزاد اور مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ دس دن قبل پارہ چنار میں ایک مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جو بعد میں قریبی علاقوں تک پھیلنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصانات ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں کرم ایجسنی: تصادم کیوں شروع ہوا؟10 April, 2007 | پاکستان فریقین پر فوج کی گولہ باری09 April, 2007 | پاکستان ہلاکتیں 50 تک ہو سکتی ہیں: شیرپاؤ07 April, 2007 | پاکستان 23 افراد ہلاک: اورکزئی لڑائی بند10 October, 2006 | پاکستان اورکزئی کشیدگی:دو مزید ہلاک07 October, 2006 | پاکستان میڈیکل کالج کرم ایجنسی میں نہیں31 July, 2006 | پاکستان کرم ایجنسی تصادم، پندرہ ہلاک21 June, 2006 | پاکستان پارہ چنار:لڑائی پھیل گئی، فوج طلب06 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||