ہلاکتیں 50 تک ہو سکتی ہیں: شیرپاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں دو روز سے فرقہ وارانہ جھڑپوں میں اٹھائیس سے لے کر پچاس تک افراد ہلاک جبکہ پچاس سے زائد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حالات پر قابو پانے کے لیے فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس فرقہ وارنہ تشدد میں اٹھائیس سے لے کر پچاس تک افراد کے ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ٹھوس اعداوشمار اکٹھے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سے 250 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں جمعہ کو سنی اور شیعہ مسالک کے ماننے والوں کے درمیان ایک مذہبی جلوس کے مسئلے پر فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ لڑائی میں چالیس افراد ہلاک اور تینتالیس زخمی ہو گئے ہیں۔ اے ایف پی نے بھی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چالیس افراد ہلاک اور ستر زخمی ہوئے ہیں۔ اے ایف پی نے ایک اعلیٰ اہلکار عراف حبیب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقے سے اطلاعات ملی ہیں کہ چالیس افراد ہلاک ہوئ،ے ہیں جبکہ پارہ چنار میں حکام نے بتایا کہ اس لڑائی میں ستر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حکام نے حالات پر قابو پانے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ فوج کی مدد بھی طلب کر لی تھی۔ سنیچر کو اعلان کیا گیا کہ کوئی بھی شخص کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔ قبائلی علاقے کے ایڈمنسٹریٹر صاحبزادہ محمد انیس نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں فرقوں کے مسلح افراد ایک دوسرے کے خلاف بھاری اسلحہ کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گن شپ ہیلی کاپٹرز نے سنیچر کی صبح متصادم گروہوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی اور اگر تصادم ختم نہ ہوا تو ایسی ہی کارروائی دوبارہ کی جائے گی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں انیس سو اسی کی دہائی میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں اب تک ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے آبادی کا تقریباً پندرہ فیصد حصہ ہیں۔ صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں بھی اگرچہ اکثریت سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہے لیکن کرم ایجنسی اور اورکزئی میں شیعہ افراد بھی خاصی تعداد میں آباد ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق پارہ چنار میں فرقہ وارانہ فسادات کو رکوانے کے لیے قبائلی عمائدین کا جرگہ بلانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ پارہ چنار میں انیس سو چھیاسی کے بعد سے فرقہ ورانہ تشدد کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ بعض مبصرین اس کی وجہ پاکستان کی افغان پالیسی قرار دیتے ہیں۔ اس شہر کے حالات اب اتنے کشیدہ رہنے لگے ہیں کہ اب وہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بھی قبائلی جنگ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ | اسی بارے میں ہنگو: امام بارگاہ پر راکٹ حملہ30 January, 2007 | پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تناؤ10 March, 2007 | پاکستان سال بعد بھی ملزموں کا سراغ نہیں31 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||