BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 March, 2007, 20:26 GMT 01:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سال بعد بھی ملزموں کا سراغ نہیں

ایک سال پہلے ہونے والے دھماکے سے ہلاک ہونے والوں کے جنازوں میں سنی تحریک کے ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی تھی
کراچی میں نشتر پارک میں بم دھماکہ کو ایک سال ہونے کو ہے، مگر تحقیقاتی ادارے اس واقعے میں ملوث ملزمان اور گروہ کا تعین نہیں کرسکے ہیں۔

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم ٹربیونل بھی اپنی کارووائی وقت کی کمی کی وجہ سے پوری نہ کرسکا جس وجہ سے یہ مقدمہ آج بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے۔

گزشتہ سال اپریل میں نشتر پارک میں محفل میلاد کے دوران ہونے والے بم دھماکے میں کم از سے کم باسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سنی تحریک اور جماعت اہل سنت کے رہنماؤں اور علمائے دین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

واقعے کے بعد ایک ہفتے تک کراچی میں کاروبار زندگی معطل رہا اور صورتحال کشیدہ رہی، جس دوران نہ صرف وزیراعظم شوکت عزیز بلکہ صدر پرویز مشرف کو بھی کراچی آنا پڑا تھا۔

علماء کی ہلاکت پر ملک بھر میں احتجاج کیا گیا اور ملزمان کی نشاندھی کے مطالبات بھی ہوتے رہے۔ پولیس کئی روز تک اس بم دھماکے کی نوعیت اور ساخت کا پتہ لگانے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی اور یہ صورتحال ابھی بھی جوں کی توں ہے۔

سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز بتاتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف نے انہیں پندرہ دن میں تفیصلات سے آگاہ کرنے اور اعتماد میں لینے کی یقین دھانی کروائی تھی لیکن ’جو حکومت بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے خلاف فرنٹ سٹیٹ کر کردار ادا کر رہی ہے وہ اندرونی دہشت گردی کو قابو نہیں کرسکتی۔ دہشت گرد آج تک آزاد گھوم رہے ہیں۔‘

کراچی سٹی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی اسے ایک بلائینڈ کیس قرار دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کے تفتیش میں ابھی تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ ابھی تک جائے واردات سے ملنے والے سر کی بھی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

سندھ میں محکمۂ داخلہ کے معاون وسیم اختر بھی ان کی موقف سے متفق نظر آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مختلف ادارے اس کی تحقیقات کر رہے ہیں، مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ مگر اداروں کو یاد دہانی کروائی جاتی رہی ہے کہ وہ کام کرتے رہیں۔

حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لئے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں ٹربیونل قائم کیا، جس کے بعد پولیس نے اپنی تفتیش روک دی۔

اس ٹربیونل کو یہ تعین کرنا تھا کہ یہ خودکش حملہ تھا یا نہیں، اس میں کون لوگ ملوث تھے اور طریقہ واردات کیا تھا۔ٹربیونل نے اہل سنت کی بارہ جماعتوں کو طلب کیا تھا، جن میں سے سنی تحریک سمیت گیارہ جماعتوں نے بائیکاٹ کیا۔

اس ٹربیونل نے اپنی تحقیقات کے دوران پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی قلعی کھول دی اور کئی سوال اٹھائے۔

سنی موومنٹ کے ٹربیونل کے وکیل جاوید چھتیاری بتاتے ہیں کہ
اس ٹربیونل میں ثابت ہوا کہ یہ خودکش بم حملہ تھا، اور سٹیچ سے کوئی پانچ فٹ قریب یہ دھماکہ ہوا جبکہ پولیس کی انکوائری یہ کہتی تھی کہ ستائیس فٹ کی دوری پر یہ دھماکہ ہوا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسری بات یہ سامنے آئی کے بم ڈسپوزل کے پاس کسی حادثے سے نمٹنے کے لئے ایک بھی انتظام نہیں ہے۔کراچی کے ہسپتالوں میں حادثات سے نمٹنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ جب یہ حادثہ ہوا تو تین دن تک زخمی ہسپتالوں میں پڑے رہے ان کے جسم میں گولیاں لگی رہی۔

سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز بتاتے ہیں ان کی جماعت کا خدشہ درست ثابت ہوا، جسٹس رحمت حسین جعفری نے حکومت سے وقت مانگا تھا مگر حکومت کی بے حسی اور سرد مہری اور یہ خدشہ کہ اس میں حکومت کے کچھ لوگ ملوث ہیں سچ ثابت ہوا۔

اس واقعے میں کون ملوث ہیں؟ پولیس کہتی ہے تحقیقات جاری ہیں اور وزارت داخلہ کے معاون وسیم اختر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ملنے والی معلومات کے بارے میں بتایا نہیں جاسکتا۔

سنی تحریک کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کے پاؤں کے نشانات اسلام آباد تک جاتے ہیں۔

اس کی تحقیقات ملک کے حساس اداروں نے کی ہے۔انہوں نے اپنی رپورٹ بھی پیش کی جو ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے۔

تین ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والا یہ ٹربیونل کیا کسی نتیجے پر پہنچا تھا، اس بارے میں جاوید چھتیاری ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے مجمع سے ایک تصویر نکال کر حکام کو دی اور کہا کہ یہ مشتبہ خودکش بمبار ہے، اس تصویر کو اخبار میں شایع کریں تاکہ اس کا رشتے دار خود آجائے۔‘

جاوید چھتیاری نے سوال کیا کہ آخر اس تصویر کو کیوں شایع نہیں کیا گیا، ٹربیونل کو مزید وقت کیوں نہیں دیا گیا، ہوسکتا ہے کہ شاید ٹربیونل کے سربراہ کسی نتیجے پر پہنچنے والے ہوں گے یا پہنچ چکے ہوں گے۔

اسی بارے میں
یہ کِس کا سر ہے؟
12 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد