ہنگو: امام بارگاہ پر راکٹ حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوب مغربی ضلع ہنگو میں قومی امام بارگاہ کے سامنے راکٹ گرنے اور اس کے بعد فائرنگ کے واقعات میں دو افراد ہلاک جبکہ چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔ واقعے کے فوری بعد شہر کو فوج کے حوالے کر کے وہاں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے دو افغان مہاجر بتائے جارہے ہیں جبکہ زخمیوں میں زیادہ تر پولیس اہلکار شامل ہیں۔ دو روز پہلے پشاور میں خود کش حملے کے بعد سے پورے ملک میں عاشورہ کے موقع پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ پیر کو بنوں کی امام بارگاہ پر بھی راکٹ حملہ کیا گیا اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ایک خود کش حملہ ہوا تھا۔ ہنگو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح ساڑھے پانچ کے قریب اس وقت پیش آیا جب نامعلوم مقام سے فائر کیا گیا ایک راکٹ قومی امام بارگاہ محلہ خان باڑی میں آکرگرا جس سے وہاں پر موجود دس پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ راکٹ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایک ماتمی جلوس امام بارگاہ میں داخل ہورہا تھا تاہم جلوس میں کسی کی زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد علاقے میں کئی جگہوں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں اور علاقے میں کچھ مارٹر گولے بھی گرے۔ ہنگو کے ضلعی ناظم غنی الرحمان نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعات میں دو افغان مہاجر ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ دس پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے فوری بعد فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صبح سے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار سڑکوں پر گشت کررہے ہیں اور علاقے میں حالات مکمل طوپر کنٹرول میں ہیں۔ مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ راکٹ گرنے کے واقعے کے بعد مساجد سے اعلانات شروع ہوگئے کہ علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے لہذا لوگ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں سخت خوف و ہراس کی فضا ہے اور لوگ گھروں میں محبوس ہوکر رہ گئے ہیں۔ ایک عینی شاہد حمید اللہ نے بتایا کہ علاقے میں کرفیو نافذ ہے لوگوں کو کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ باہر کیا ہورہا ہے، ہر طرف خوف اور بے یقینی کی کیفیت ہے۔ واضع رہے کہ محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی حکومت نے ہنگو کو حساس علاقہ قرار دیکر وہاں فوج اور فرنٹیر کور کے دستوں کو بڑی تعداد میں تعنیات کیا تھا۔ گزشتہ سال فروری کے مہینے میں ہنگو بازار میں عاشورہ کے دن خودکش حملے اور فرقہ ورانہ تشدد کے واقعات میں پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ چھ سو زائد دوکانوں کو جلایا گیا تھا۔ | اسی بارے میں عاشورہ: فوج اور فرنٹیئر کور تعینات29 January, 2007 | پاکستان ’پشاور حملہ آور کا سراغ نہیں ملا‘29 January, 2007 | پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان میں خود کش حملہ29 January, 2007 | پاکستان پشاور میں دھماکے کے عینی شاہد28 January, 2007 | پاکستان پشاور: بم دھماکے میں 12 افراد ہلاک27 January, 2007 | پاکستان ٹانک میں دھماکہ، ہنگو میں فائرنگ21 January, 2007 | پاکستان ہنگو:شیعہ سنی امن معاہدہ طے پا گیا11 February, 2006 | پاکستان ہنگو شہرمیں کشیدگی، فائرنگ 10 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||